وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور ابتدائی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں آئی جی بلوچستان پولیس نے ریلوے پھاٹک دھماکے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کی، جس میں دھماکے کے مختلف پہلوؤں، نقصان اور دہشتگردوں کے ممکنہ نیٹ ورک سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ کیا گیا، واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جبکہ شواہد اکٹھے کرکے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اجلاس کے دوران نہتے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکا نے شہدا کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے، دشمن عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں لیکن قوم کے اتحاد اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے دہشتگردی کے عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر بم حملہ، کم از کم 23 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور شہدا کے خاندانوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زور دار دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جبکہ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔