بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی صورتِ حال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کے لیے پہلے کی طرح اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کے حالیہ سفارتی رابطوں اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا۔
گزشتہ ماہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی پاکستانی کوششوں کا حصہ تھا۔
اکتوبر میں عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف نے بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔
گزشتہ ہفتے پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔
حکومت کا ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کا منصوبہ
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے جمعے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے آئل ریفائنریوں سے بات چیت کی تاکہ وہ اپنے غیر معمولی منافع کے ذریعے اضافی مالی بوجھ خود برداشت کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عام آدمی پر یہ بوجھ نہیں ڈالے گی۔
ستمبر میں شروع کی گئی ایندھن سبسڈی اسکیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ سہولت دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گی۔
شہباز شریف کے مطابق حکومت اب تک اس اسکیم پر 28 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کی نگرانی میں یہ منصوبہ کامیابی اور شفافیت کے ساتھ چل رہا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے ایل پی جی مافیا کا دور ختم کر دیا ہے اور اب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق درآمد شدہ ایل پی جی کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے نیلام کیا جائے گا تاکہ مارکیٹ میں مسابقت بڑھے۔ اس عمل سے حاصل ہونے والے منافع کو صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج تیار
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے مجوزہ ترقیاتی پیکج کو حتمی شکل دے دی ہے۔
یہ پیکج گزشتہ ماہ صوبے میں گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح سکیورٹی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، صوبائی حکومت اور وفاقی انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں، خیبر پختونخوا کی نئی حکومت اور وفاقی حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کا سر کچل دیا جائے گا، جو ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت سردیوں کے موسم سے قبل ایل پی جی، مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، پیٹرول اور قدرتی گیس کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل اجلاس کر رہی ہے۔
ان کے مطابق سمندری راستوں کی بندش کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کے بعد پاکستان میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں اس کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گیس سلنڈر سرکاری قیمت سے دگنی قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں ایل پی جی عام طور پر رکشوں اور کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بالخصوص وہ گھرانے اس گیس پر انحصار کرتے ہیں جنہیں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی سہولت میسر نہیں۔







