حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی قابو میں ہے۔ اکتوبر میں شرح 9.6 فیصد رہی، جو ستمبر کی 10.3 فیصد سے کم ہے۔ یعنی سنگل ڈیجٹ ضرور ہے، مگر ایک ہندسے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ 

مسئلہ یہ ہے کہ ایک سال پہلے اکتوبر 2025 میں یہی شرح 6.2 فیصد تھی، اور رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کا اوسط 10.05 فیصد رہا۔ اس لیے خوشخبری تو ہے، مگر ’قابو‘ کا لفظ ذرا احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ جو چیز ایک سال میں 6 سے 10 کے قریب پہنچی ہو، وہ بریک لگا کر رکی ہے، پیچھے نہیں گئی۔

وزیراعظم شہہبازشریف برآمدات بڑھانے کی بات کرتے ہیں، جو خوش آئند ارادہ ہے۔ لیکن مالی سال 2025-26 میں برآمدات 5.93 فیصد گر کر 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 8.14 فیصد بڑھ کر 69.76 ارب ڈالر ہو گئیں، اور تجارتی خسارہ 39.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

 حکومت نے خود 35.3 ارب ڈالر کا ہدف رکھا تھا، جو 5.2 ارب ڈالر سے چھوٹ گیا۔ یہ سالانہ تجارتی خسارہ ملک کے مجموعی سرکاری زرِ مبادلہ ذخائر سے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔

اب نیا ہدف 32.8 ارب ڈالر ہے۔ اور 60 ارب ڈالر کا خواب؟ وہ ابھی بہت دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہمیں 35 ارب کی دہلیز پار کرنی ہے، جو خود اس سال حکومت کا اپنا ہدف تھا۔

ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 میں تقریباً 13.003 کھرب روپے جمع کیے، اور آئی ایم ایف کی شرط سے 975 ارب روپے پیچھے رہا۔ ادارہ کہتا ہے کہ اس نے ہدف پورا کیا ہے۔ اور یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ سال بھر میں ہدف کم کر کے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا اور ایف بی آر نے اسے 21 ارب روپے کے فرق سے عبور کر لیا، جبکہ اصل ہدف 14.131 کھرب روپے تھا۔

ہمارے ہاں امتحان کی یہ ترکیب پرانی ہے کہ پرچہ مشکل ہو تو پاسنگ مارکس نیچے لے آؤ، پھر سب پاس۔ اور خسارہ کیسے پورا ہوا؟ پیٹرولیم لیوی کے نرخ بڑھا کر اور ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتی کر کے۔ یعنی کمی ٹیکس نیٹ نے نہیں، پمپ اور ترقیاتی بجٹ نے پوری کی۔

حکومت نے گزشتہ برس پٹرولیم لیوی سے تقریباًٰ 15 سو ارب روپے کمائے اور اگلے مالی سال میں 17 سو ارب روپے کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

ترقی کی بات کریں تو ورلڈ بینک کہتا ہے کہ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے 3.8 فیصد شرحِ نمو کا اندازہ لگایا ہے، جو بہتری کی علامت ہے۔ لیکن اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کے روزانہ تین ڈالر سے کم کمانے والے غریبوں کا 48 فیصد پاکستان میں رہتا ہے۔

پاکستان میں چھ سال سے زائد عرصے میں غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ شرحِ نمو بڑھ بھی جائے تو سوال وہی رہتا ہے کہ اس کا حصہ نیچے کتنا پہنچتا ہے۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ دوسرا مؤقف بھی سنا جائے۔ حکومت کہتی ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت بحالی کی طرف جائے گی، ترسیلاتِ زر اور مضبوط ذخائر سہارا دے رہے ہیں، اور سرکاری اداروں کی اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری سے استحکام آئے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ملک ڈیفالٹ کے کنارے سے پلٹا ہے، اور یہ معمولی کام نہیں۔

تو ٹیک آف ہو رہا ہے یا نہیں؟ جہاز رن وے پر دوڑ رہا ہے، انجن چل رہے ہیں، اور اعلان کرنے والے خوش ہیں۔ مگر برآمدات گر رہی ہیں، خسارہ پھیل رہا ہے اور ٹیکس کا ہدف بار بار نیچے آ رہا ہے۔ اصل جانچ تب ہوگی جب پہیے زمین چھوڑیں گے۔ تب تک ’رن وے پر تیز رفتاری‘ کو ’پرواز‘ کہنے میں احتیاط بہتر ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر