اہلِ خانہ کے مطابق بلال غوری ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ ریکارڈ کرنے کے لیے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات گئے تک اوپر نہ آنے پر اہلِ خانہ کو تشویش ہوئی۔
بلال غوری کی اہلیہ کے مطابق جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلال غوری گزشتہ چند روز سے علیل بھی تھے اور ان کا اچانک گھر سے لاپتہ ہونا اہلِ خانہ کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔
بلال غوری کے برادرِ نسبتی عبدلواسع کے مطابق واقعے کا علم ہوتے ہی انہوں نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس کے بعد اتوار کی صبح تھانہ شالیمار جا کر بلال غوری کی گمشدگی کی تحریری درخواست جمع کرائی۔
تھانہ شالیمار کے سب انسپکٹر نعمان شفیق نے بتایا کہ پولیس کو بلال غوری کی گمشدگی کی درخواست موصول ہو چکی ہے اور ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم پولیس کے مطابق تاحال گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
ادھر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اسلام آباد سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں محمد بلال غوری کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر نمبر 143/2026 کے مطابق مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 26-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق بلال غوری نے 5 ستمبر 2026 کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کی تقرری سے متعلق مواد اپ لوڈ اور نشر کیا۔

مقدمے کے مطابق ایکس پر رات ایک بج کر 22 منٹ پر ایک پوسٹ جبکہ یوٹیوب پر 16 منٹ اور 6 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو اپ لوڈ کی گئی۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ مواد میں نیکٹا کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کی تقرری کے عمل اور اس سے متعلق حالات کے بارے میں الزامات عائد کیے گئے، جنہیں این سی سی آئی اے نے مبینہ طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق دستیاب مواد میں پیکا ایکٹ کی دفعات 20 اور 26-A کے تحت قابلِ تعزیر جرم کے شواہد موجود تھے، جس کے بعد مجاز اتھارٹی کی اجازت سے مقدمہ درج کیا گیا۔
بلال غوری کی گمشدگی کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کی خیریت اور موجودگی سے متعلق معلومات کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
بلال غوری اس سے قبل بھی رواں برس فروری میں خبروں میں آئے تھے، جب انہیں بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بلال غوری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے کے باعث انہیں سفر سے روکا گیا تھا، تاہم بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔
اس سے قبل جون 2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے بلال غوری کو یوٹیوب پر مبینہ ہتکِ عزت کے معاملے میں طلب کیا تھا۔ بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلاف جاری نوٹس معطل کردیئے تھے۔
بلال غوری کی موجودہ گمشدگی کے معاملے میں پولیس کی ابتدائی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ان کے اہلِ خانہ ان کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔







