شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں جاری بی آر ٹی منصوبے شہریوں اور شہر کے مستقبل کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اورنج لائن بی آر ٹی سندھ حکومت نے اپنے وسائل سے مکمل کی، جب کہ گرین لائن بی آر ٹی وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا، جس کی ذمہ داری ملنے کے بعد صرف تین ماہ میں اس کی یومیہ رائیڈرشپ 53 ہزار سے بڑھ کر 78 ہزار تک پہنچا دی گئی۔ اورنج لائن بی آر ٹی کی روزانہ رائیڈرشپ بھی 1800 سے بڑھ کر 8500 ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس سے روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد شہری مستفید ہو رہے ہیں اور سندھ حکومت اس منصوبے پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ یہ سروس کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور اور ٹنڈوالہیار سمیت مختلف شہروں میں چل رہی ہے۔ پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس بھی سندھ حکومت ہی لے کر آئی۔
شرجیل انعام میمن نے خواتین کے لیے شروع کیے گئے پنک اسکوٹی پروگرام کو ایک اہم سماجی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے آغاز پر صرف 150 خواتین کے پاس موٹرسائیکل چلانے کا لائسنس تھا، جبکہ اب 25 ہزار خواتین لائسنس حاصل کرنے کی اہل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایک لاکھ خواتین کو بھی لائسنس فراہم کیے جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو نجی شعبے کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی خواتین کے لیے پنک ٹیکسی اور ای وی ٹیکسی منصوبے بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ نے ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، جہاں 24 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایف بی آر کی گروتھ 10 فیصد رہی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 368 ملازمین پر مشتمل سندھ ریونیو بورڈ اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے، جب کہ ایف بی آر کے پاس 23 ہزار ملازمین ہونے کے باوجود وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پا رہا۔
وزیر اطلاعات سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 3 ہزار 114 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی ہیں اور مختلف صوبوں کے صحافیوں نے ان منصوبوں کا دورہ کرکے ان کی تعریف کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کے زیر انتظام سڑکوں کی حالت وفاقی حکومت کے زیر انتظام شاہراہوں سے بہتر ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں 97 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئیں اور آج تک کسی نے بھی سفارش یا بے ضابطگی کا الزام نہیں لگایا، جو سندھ حکومت کی شفافیت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے سندھ میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اغوا برائے تاوان کا کوئی کیس موجود نہیں اور سندھ پولیس مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں
وزیرِ اطلاعات سندھ نے تھر کول منصوبے کو شہید بے نظیر بھٹو کا خواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2008 میں حکومت بننے کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تھر کول سے 3960 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جو قومی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے، جب کہ سندھ حکومت اس منصوبے پر ایک ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبے کے تحت 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ 26 لاکھ افراد کو رہائش فراہم کی جائے گی، جو سندھ کی تقریباً 22 فیصد آبادی بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا آڈٹ ورلڈ بینک، پاک فوج اور مختلف بین الاقوامی ڈونر ادارے تسلیم کر چکے ہیں۔ سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جب کہ وفاقی حکومت بھی بعض شعبوں میں سندھ حکومت سے تعاون اور رہنمائی کی خواہاں ہے۔






