پولیس حکام کے مطابق افسوسناک واقعہ گھوٹکی کے کچے کے علاقے آندل سندرانی میں چند روز قبل پیش آیا، تاہم اس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔ واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق آندل سندرانی تھانے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر علی نواز تنیو کی مدعیت میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق دورانِ گشت ایک مخبر نے اطلاع دی کہ حمیدان نامی نوجوان خاتون کو مبینہ طور پر ’کاروکاری‘ کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کی شادی اکبر شر نامی شخص سے ہوئی تھی اور وہ حاملہ بھی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق خاتون پر ایک شخص راشد عرف راشو شر کے ساتھ تعلقات کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد ان کے شوہر اور دیگر قریبی رشتہ دار مبینہ طور پر انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس دستاویزات کے مطابق ملزمان خاتون کو دریائے سندھ کے کنارے لے گئے جہاں دن کے وقت فائرنگ کر کے انہیں قتل کیا گیا۔ بعد ازاں جرم کے شواہد مٹانے کی غرض سے لاش کو دریائے سندھ میں پھینک دیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتولہ 19 سال کی تھیں اور حاملہ ہونے کے باوجود ان پر سنگین الزام عائد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق خاتون کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی اور وہ اپنی پہلی امید سے تھیں۔
مزید پڑھیں: پشاور کی مریضہ شمیم رحمت صحت یاب ہو کر جنرل ہسپتال سے ڈسچارج
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر لاش کی تلاش کے لیے کارروائی کی، تاہم دریا میں پانی کے تیز بہاؤ اور بلند سطح کے باعث تاحال لاش برآمد نہیں ہو سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل جاری ہے اور متعلقہ اداروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم واقعے کے بعد تمام ملزمان فرار ہو گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی گرفتاری کے لیے کچے کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے، اگر قتل کی تصدیق اور الزامات ثابت ہوئے تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ سماجی حلقوں کی جانب سے بھی خاتون کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔







