اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر واقعی مذاکرات کی نیت موجود ہے تو پھر خطے میں فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مذاکرات کی بات چیت محض ایک وقفہ ہے تاکہ بعد میں دوبارہ حملے کیے جا سکیں؟
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب ماضی کا وہ فارمولا قبول نہیں کرے گا جس میں پہلے حملہ کیا جاتا ہے، پھر جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، اور بعد ازاں دوبارہ حملے شروع کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس بات کی ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ مستقبل میں اس طرز عمل کو نہیں دہرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران نے امریکی صدر کو ’جھوٹا‘ قرار دے دیا: ’جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔‘
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ثالث ممالک امریکا کی جانب سے دی جانے والی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے کہ بار بار معاہدے کیوں ٹوٹتے ہیں اور وعدہ خلافی کا ذمہ دار کون ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال محض سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس اعتماد کو بحال نہ کیا گیا تو خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی سرگرمیاں سفارتی عمل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام کھلا خط: ایران خطرہ نہیں، کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دراصل بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہیں کہ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے مضبوط اور قابلِ عمل ضمانتیں ناگزیر ہوں گی، بصورت دیگر ماضی کی طرح صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں، اور حالیہ بیانات نے اس کشیدگی میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔







