انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کاروباری افراد، صنعتوں اور عام عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ حالیہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کاروباری طبقہ پہلے ہی مہنگی بجلی و گیس، بھاری ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد دیگر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا فوری جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق پیٹرول پر عائد ٹیکس اور لیوی صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی حالات پاکستان کے کنٹرول میں نہیں، تاہم حکومت اپنے اختیار میں موجود پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں کمی کرکے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب معیشت کو پیداواری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرنا معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ مہنگے ایندھن سے مال برداری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات براہ راست بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں خام مال، صنعت، زراعت، لاجسٹکس اور اشیا کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے پاکستانی مصنوعات کی ملکی اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسا طریقہ کار بنایا جائے جس کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب ردوبدل کے ذریعے کچھ بوجھ حکومت خود برداشت کرے۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے صنعت اور عام عوام کو فوری ریلیف ملے گا، مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سستے اور قابلِ برداشت ایندھن کو معاشی ترقی اور صنعتی مسابقت کے لیے بنیادی ضرورت سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے مشاورت کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور جو بھی ریلیف طے ہو، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کا حقیقی فائدہ صارفین اور کاروباری طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کی صورت میں ملے۔







