ایجبسٹن میں کھیلے جارہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے تیسرے روز رضا اللہ نے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے 43 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو ٹیسٹ ڈیبیو پر کسی پاکستانی بلے باز کی تیز ترین نصف سنچری بھی ہے۔

رضا اللہ نے 9 چھکے لگا کر نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی کے ٹیسٹ ڈیبیو پر سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ برابر کردیا۔ وہ انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بلے بازوں کی فہرست میں بھی بین اسٹوکس کے برابر آگئے، جنہوں نے 2023 کی ایشز میں لارڈز کے میدان پر 9 چھکے لگائے تھے۔

21 سالہ رضا اللہ نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 81 رنز بنائے اور جنوبی افریقہ کے کوربن بوش کے ساتھ ٹیسٹ ڈیبیو پر نویں یا اس سے نچلے نمبر پر سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ بھی برابر کردیا۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش کے ابوالحسن 113 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

رضا اللہ نے محمد عباس کے ساتھ نویں وکٹ پر 121 رنز کی شراکت قائم کی، جس نے پاکستان کو شدید مشکلات سے نکال کر دوسری اننگز میں 449 رنز تک پہنچایا۔ عباس نے بھی کیریئر کی بہترین 42 رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دیا اور یوں میزبان ٹیم کو میچ تیسرے روز ہی ختم کرکے سیریز میں 3-0 سے کلین سوئپ مکمل کرنے سے روک دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رضا اللہ نے اس سے قبل انگلینڈ کی پہلی اننگز میں 4 وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں انگلش کپتان جو روٹ کی وکٹ بھی شامل تھی۔ یوں ٹیسٹ ڈیبیو پر ان کی مجموعی کارکردگی پاکستان کرکٹ کے لیے ایک غیر معمولی یادگار بن گئی۔