اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک ہیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت آئندہ انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں، انتخابی حکمت عملی اور سیاسی اتحادوں سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ 

آزاد کشمیر میں عام انتخابات جن کا جولائی میں ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف جماعتیں اپنی انتخابی صف بندی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، ان انتخابات پر خصوصی غور کیا گیا۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں جوڑ توڑ اور رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ رات آزاد کشمیر کابینہ کے ایک اہم رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری رشید نے فاروق حیدر کے ہمراہ رانا ثنااللہ سے ملاقات کی، جس کے بعد وزیراعظم آزاد کشمیر نے انہیں کابینہ سے برطرف کر دیا۔

ذرائع کے مطابق چوہدری رشید اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی معاملات پر ابتدائی مفاہمت طے پا چکی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد باضابطہ طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔

مزید پڑھیں: خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف

مزید اطلاعات کے مطابق فیصل راٹھور سمیت آزاد کشمیر کابینہ کے بعض دیگر ارکان بھی مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور آئندہ دنوں میں سیاسی منظرنامے میں مزید تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ  آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طاقت کے توازن پر بھی اہم اثر ڈال سکتے ہیں، اسی لیے تمام جماعتیں اپنی انتخابی حکمت عملی کو تیزی سے حتمی شکل دے رہی ہیں۔