ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کا کام شروع کردیا۔ ابتدائی طور پر کئی بچوں کی حالت تشویشناک تھی، جبکہ بعد ازاں اسپتالوں میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجوہات میں عمارت کی خستہ حالی، اوپری منزل پر جاری مرمتی کام اور چھت پر ضرورت سے زیادہ وزن شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ٹیوشن سنٹر ایک نجی رہائشی مکان میں بغیر رجسٹریشن کے چلایا جا رہا تھا۔ اس نوعیت کے ٹیوشن سنٹر لاہور سمیت پنجاب بھر میں بڑی تعداد میں قائم ہیں، جہاں بچے اسکول کے بعد اضافی تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاہم ان عمارتوں کے حفاظتی معیار اور تعمیراتی ضوابط پر اکثر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
لاہور میں کاہنہ کے علاقے میں گھر میں بنی ٹیوشن اکیڈمی کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی ریسکیو آپریشن جاری@ammarmasood3 @AbsarAlamHaider @MaryamNSharif pic.twitter.com/m0B94e7O9n
— Media Talk (@mediatalk922) June 30, 2026
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے دل دہلا دینے والا المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 معصوم جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی سانحہ ہے اور ان کا دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیوشن سنٹر غیر رجسٹرڈ تھا اور ایک نجی رہائشی عمارت میں ناقص چھت کے نیچے چلایا جا رہا تھا، اگر غفلت، لاپرواہی یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے مون سون کے موسم سے قبل غیر محفوظ اور خستہ حال عمارتوں کا جامع سروے کرانے اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز و نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ سخت قواعد و ضوابط متعارف کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مکان کے مالک سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت دو افراد گرفتار
اس المناک واقعے نے لاہور بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ والدین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ماہرین تعلیم اور شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بغیر مناسب اجازت اور حفاظتی معیار کے تعلیمی ادارے چلانا ناقابلِ قبول ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے غیر محفوظ عمارتوں کے سروے، غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت ضوابط نافذ کرنے کے اعلانات اگر مؤثر انداز میں عملی جامہ پہن گئے تو مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔







