تفصیلات کے مطابق واقعہ رات گئے ملتان کے بی سی جی چوک پر پیش آیا، جہاں دونوں سیور مین 36 انچ کی مین سیوریج لائن کی صفائی میں مصروف تھے۔ اسی دوران لائن میں موجود زہریلی گیس کے باعث دونوں افراد بے ہوش ہوگئے اور جانبر نہ ہوسکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں ملازمین رات گئے سیوریج لائن کی صفائی کے کام میں مصروف تھے، جہاں دم گھٹنے کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔
پولیس کے مطابق دونوں افراد گٹر لائن کی صفائی کے دوران حفاظتی آلات کے بغیر کام کر رہے تھے، جس کے باعث زہریلی گیس کے اخراج سے یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت واسا کا کوئی افسر موقع پر موجود نہیں تھا۔ واقعے کے بعد دونوں افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کی گئیں، جس کے بعد انہیں خاموشی سے ورثا کے حوالے کردیا گیا۔
دوسری جانب ریسکیو کی جانب سے شہر میں زخمی ہونے والے واقعات کی بھی عموماً رپورٹ جاری کی جاتی ہے، تاہم اس واقعے میں دو افراد کی ہلاکت کو رپورٹ نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ادھر واسا حکام نے واقعے کے حوالے سے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک واسا کا مستقل ملازم اور دوسرا ورک چارج ملازم تھا، تاہم دونوں افراد سرکاری ڈیوٹی پر تعینات نہیں تھے۔
واسا حکام کے مطابق ادارے کی جانب سے دونوں افراد کو سیوریج لائن کی صفائی کے لیے کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی انہیں اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد اپنی ذاتی حیثیت میں ایک نجی کنٹریکٹر کی معاونت کے لیے سیوریج لائن میں گئے تھے، جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔
واسا حکام نے مزید کہا کہ سیوریج کے کام کے دوران حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے اور سیوریج لائن میں داخل ہونے سے قبل تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تاہم واقعے میں ایک مستقل واسا ملازم اور اس کے بیٹے کی ہلاکت نے سیوریج لائنوں میں کام کرنے والے ملازمین کی حفاظت اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دونوں افراد سیوریج لائن میں کس کی اجازت سے داخل ہوئے اور حفاظتی انتظامات کے بغیر وہاں کام کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔







