اپنے   بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مولانا محمد ادریس ترنگزئی ایک جید عالم دین، باوقار شخصیت اور بلند پایہ محقق تھے، جنہوں نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور علمی فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحوم کی خدمات نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ سماجی اور فکری میدان میں بھی نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مولانا ادریس ترنگزئی کی شہادت علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، جس کا خلا بآسانی پر نہیں ہو سکے گا،ایسے علماء معاشرے کی رہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ان کی جدائی ایک بڑے خلاء کو جنم دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں انصاف ’دباؤ کا شکار‘ ہے، عدالتوں میں 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ قوم کو چاہیے کہ وہ مرحوم کی تعلیمات اور خدمات کو مشعلِ راہ بنائے اور دین و معاشرے کی بہتری کے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔

واضح رہے کہ  مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی علمی خدمات اور دینی کاوشیں طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی، اور ان کی وفات کو ملک کے علمی و مذہبی حلقوں میں ایک اہم سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔