وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،خاص طور پر افغانستان، مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام حقِ خودارادیت سے محروم ہیں، جبکہ فلسطین میں جاری مظالم اور عدم احتساب عالمی ضمیر کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی سمجھوتا ایکسپریس برسی پر بھارتی سنگ دلی پر مذمت

انہوں  نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کو خواتین کے حقوق کے استحصال یا ظلم کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف فوری اور مؤثر عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کرے گا۔

پاکستان کی یہ پوزیشن اس عزم کی عکاس ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی ہر ملک اور عالمی ادارے کے لیے ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ دنیا میں انصاف اور برابری قائم رہ سکے۔