ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ابتدا ہی سے ایران پر ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے متعدد امریکی حکام اور عالمِ اسلام کے قائدین سے مسلسل رابطے رکھے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا، تاہم بعد ازاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد تہران میں فضائی حملے میں شہید ہوگئے، ایرانی میڈیا
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس ایران پر حملے کے بعد سب سے پہلے مذمت کرنے والا ملک بھی سعودی عرب تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاض خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ پہلا میزائل سعودی دارالحکومت ریاض اور منطقۂ شرقیہ کی جانب داغا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں جان بوجھ کر مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا چاہتی ہیں،ایسی کارروائیاں امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر بھی اس سے قبل ولی عہد محمد بن سلمان کو مسلم اُمہ کا اہم رہنما قرار دے چکے ہیں جو اتحاد اور یکجہتی کے خواہاں ہیں۔
بیان کے اختتام پر علامہ طاہر اشرفی نے پاکستان، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات میں فعال سفارتی کردار ادا کریں، باہمی رابطوں کو مضبوط بنائیں اور اُن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں جو اُمہ کو تقسیم کر کے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نازک وقت میں دانشمندی، تحمل اور اتحاد ہی مسلم دنیا کی اصل طاقت ہیں اور اسی کے ذریعے بیرونی دباؤ اور اندرونی اختلافات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔







