آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس مظفرآباد میں ہوا، جہاں ارکان نے صدارتی انتخاب کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ پولنگ صبح 11 بجے شروع ہوئی اور دوپہر ایک بجے تک جاری رہی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کی گئی اور نتیجے کا اعلان کیا گیا۔

نتائج کے مطابق ڈاکٹر نجیب نقی نے مجموعی طور پر 32 ووٹ حاصل کیے۔ ان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے 31 ووٹ شامل تھے، جبکہ ایک ووٹ اتحادی جماعت کے رکن کی جانب سے دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر 13 ووٹ حاصل کرسکے، جبکہ ایک رکن اجلاس میں غیر حاضر رہا۔

ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق پونچھ ڈویژن کے سدھنوتی، پلندری سے ہے اور وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ وہ ماضی میں آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن رہنے کے ساتھ مختلف اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر نجیب نقی 2006 سے 2011 تک آزاد کشمیر کے وزیر صحت رہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی 2016 سے 2021 تک قائم رہنے والی حکومت میں بھی انہوں نے وزارت صحت کا قلمدان سنبھالا۔ ان کا سیاسی پس منظر ایک ایسے خاندان سے جڑا ہے جو آزاد کشمیر کی سیاست میں نمایاں رہا ہے۔

صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر نجیب نقی کی کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں اہم آئینی عہدوں کی تشکیل کا عمل بھی مکمل ہوگیا ہے۔ صدر کا منصب جنوری 2026 میں سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد خالی ہوگیا تھا۔ اس دوران عبوری طور پر اسمبلی کے اسپیکر نے صدارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔

حالیہ انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ڈاکٹر نجیب نقی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا تھا، جبکہ پیپلز پارٹی نے سینئر پارلیمانی رہنما اور سابق اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کو امیدوار بنایا تھا۔ دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے تھے۔

آزاد کشمیر کے آئینی طریقہ کار کے تحت صدر کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں اور امیدوار کو کامیابی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ موجودہ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 31 ارکان جبکہ پیپلز پارٹی کے 14 ارکان ہیں، جبکہ اسپیکر کو صدر کے انتخاب میں ووٹ دینے والے ارکان کی تعداد میں شامل نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر نجیب نقی کی کامیابی کے بعد اب وہ آئینی طور پر آزاد جموں و کشمیر کے صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی پانچ سالہ مدت کے دوران خطے کے انتظامی، آئینی اور سیاسی معاملات میں صدر کا منصب اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کردار ادا کرے گا۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں حالیہ عام انتخابات کے بعد تشکیل پانے والے نئے سیاسی و آئینی سیٹ اپ کا ایک اہم مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے۔