سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم ایک رکنی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں میر رضا کیس کی تفتیش کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن اس سے قبل بھی پولیس ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم رپورٹس اور دیگر شواہد میں موجود تضادات پر سوالات اٹھا چکا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے سیکریٹری صحت اور ڈی جی ہیلتھ کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے میر رضا کیس میں تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں مداخلت اور تبدیلیاں کیوں کی گئیں۔ کمیشن نے اس معاملے کو تحقیقات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی۔

کمیشن نے ابتدائی پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کارروائی کے دوران ریمارکس دیے گئے کہ کیس کی پہلی تفتیشی ٹیم نے انتہائی کم مدت میں تحقیقات کو متاثر کیا اور اہم شواہد محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں ضائع ہونے دیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن کے مطابق کیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران دستیاب 52 سی سی ٹی وی کیمروں میں سے صرف ایک کی فوٹیج حاصل کی گئی، جبکہ جائے وقوعہ پر موجود جھاڑیوں کو بھی جلا دیا گیا۔ کمیشن نے اس صورتحال پر سوال اٹھایا کہ اگر جائے وقوعہ اور وہاں موجود ممکنہ شواہد کو محفوظ ہی نہ رکھا جائے تو تحقیقات کس بنیاد پر آگے بڑھائی جاسکتی ہیں۔

کمیشن نے پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے بھی کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق سوالات کیے۔ دوران سماعت یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ ٹیم کے پاس تحقیقات کی ذمہ داری تقریباً چھ روز رہی، جس پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اسی مختصر عرصے کے دوران کیس کی تفتیش کو شدید نقصان پہنچا۔

جسٹس عمر سیال نے پولیس تفتیش کے مختلف مراحل، سی سی ٹی وی ریکارڈ کے حصول، جائے وقوعہ کو محفوظ رکھنے اور شواہد کی حفاظت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ کمیشن پہلے ہی پولیس سے مکمل ریکارڈ طلب کرچکا ہے اور بعض ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کرچکا ہے۔

سماعت کے دوران سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی کو بھی کمیشن کے سامنے طلب کیا گیا۔ جسٹس عمر سیال نے ان سے عہدہ سنبھالنے کے وقت، متعلقہ افسران کے ماتحت ہونے اور میر رضا کیس میں میڈیکل بورڈ سے متعلق معاملات پر سوالات کیے۔

سیکریٹری صحت نے کمیشن کو بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ محکمہ صحت کے ماتحت ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس پر جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر اسامہ کے کردار سے متعلق بھی سخت سوالات کیے اور کہا کہ ان کے بعض اقدامات سے کمیشن کی کارروائی اور محکمہ صحت دونوں کے بارے میں سوالات پیدا ہورہے ہیں۔

میر رضا کیس میں پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی کمیشن کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس سے قبل کمیشن نے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود مختلف نکات اور تضادات پر تفصیلی سوالات کیے تھے۔

کمیشن نے طبی شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹس اور بعد میں کیے گئے طبی معائنے کے درمیان موجود فرق کا جائزہ بھی لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ میر رضا کی موت کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات میں کہاں اور کس سطح پر کوتاہی ہوئی۔

جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر فرانزک اور تفتیشی ریکارڈ کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ کمیشن نے پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مکمل ریکارڈ طلب کیا جبکہ بعض دستاویزات اور رپورٹس کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اس سے قبل کمیشن نے پولیس کی جانب سے مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کہیں اہم معلومات دانستہ طور پر تو نہیں روکی گئیں۔ کمیشن نے مزید فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل رپورٹس کی موجودگی کے بارے میں بھی متعلقہ حکام سے معلومات طلب کی تھیں۔

میر رضا علی کی موت کے معاملے میں پولیس تفتیش، طبی معائنے اور جائے وقوعہ سے متعلق شواہد ابتدا ہی سے زیر بحث رہے ہیں۔ کمیشن کے قیام کا مقصد بھی کیس کی مکمل صورتحال کا جائزہ لینا، ممکنہ غفلت یا کوتاہی کی نشاندہی کرنا اور مزید تحقیقات یا قانونی و محکمانہ کارروائی سے متعلق سفارشات مرتب کرنا ہے۔

کمیشن کی جانب سے اس سے قبل میر رضا کے اہلخانہ کو یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ تحقیقات آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انداز میں کی جائیں گی اور کیس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

جسٹس عمر سیال نے سماعت کے دوران کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی پیر تک مکمل ہونے کی امید ہے، جس کے بعد حتمی رپورٹ تحریر کرنے کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

کمیشن کی رپورٹ میں پولیس تفتیش، شواہد کی حفاظت، سی سی ٹی وی ریکارڈ، میڈیکل بورڈ، پوسٹ مارٹم اور متعلقہ سرکاری افسران کے کردار سمیت مختلف پہلوؤں پر مشاہدات اور سفارشات شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

میر رضا کیس میں کمیشن کی موجودہ کارروائی کے دوران پولیس اور محکمہ صحت کے اقدامات سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان معاملات پر حتمی ذمہ داری کا تعین کمیشن کی مکمل رپورٹ اور اس میں دی گئی سفارشات کی روشنی میں ہی ہوگا۔