ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر میں جاری سیاسی سرگرمیوں، عوامی مسائل، پارٹی تنظیمی معاملات اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے آئندہ کے اقدامات پر مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس سمیت دیگر اہم رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے بعض اہم ارکان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں آزاد کشمیر سے متعلق پارٹی پالیسی اور سیاسی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن سے بات چیت کے لیے آج بھی تیار ہیں، سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا احترام کرنا ہوگا: شہباز شریف
اجلاس میں آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی صورتحال، ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والے حالات، عوامی مطالبات اور حکومت و پارٹی کے کردار پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
دوران اجلاس آزاد کشمیر میں پارٹی کی تنظیم سازی، سیاسی رابطوں میں بہتری اور آئندہ کے سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مرکزی قیادت آزاد کشمیر کی تنظیم کو مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اہم ہدایات بھی دے سکتی ہے۔
پارٹی قیادت آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے، عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے اور موجودہ حالات میں پارٹی کے موقف کو واضح کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے گی۔
مزید پڑھیں: بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق، مثبت اقدامات کی تعریف ہونی چاہیے: وزیر اطلاعات
اجلاس کے اختتام پر متفقہ فیصلوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم اعلانات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والا یہ اجلاس آزاد کشمیر کی سیاست کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے بلکہ خطے کی سیاسی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔







