کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ لیبر فورس کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ورک پلیس پر کام کرنے والے افراد کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مریم نواز نے لیبر ڈیپارٹمنٹ، انڈسٹریل انسپکشن ٹیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ فیکٹریوں میں سیفٹی پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی پائی گئی، وہاں فوری جرمانے، قانونی کارروائی اور ضرورت پڑنے پر یونٹس کی بندش جیسے اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مزدور خود کو محفوظ محسوس کریں، “محفوظ ورکر ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے اور ایک مضبوط معیشت کی بنیاد بنتا ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین میں اصلاحات لا رہی ہے، جن کا مقصد نہ صرف سیفٹی کلچر کو فروغ دینا ہے بلکہ صنعتی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق لانا بھی ہے۔ اس سلسلے میں آگاہی مہمات اور تربیتی پروگرامز بھی شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ مالکان اور مزدور دونوں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

 فیکٹری مالکان اور صنعتکاروں پر زور دیتے ہوئے مریم نواز نےکہا  کہ وہ مزدوروں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور سیفٹی آلات، فائر فائٹنگ سسٹمز اور ایمرجنسی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں سیاحت کے فروغ پر 78 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، سیاحت معیشت کو مستحکم کرے گی: مریم اورنگزیب

سماجی تحفظ کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے راشن کارڈ اسکیم کے تحت 14 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 ہزار مزدوروں کو اس سہولت میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

 اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہر مزدور کو محفوظ، باوقار اور صحت مند ورکنگ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور اس حوالے سے بین الاقوامی سیفٹی معیارات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ  یہ اقدامات نہ صرف صنعتی شعبے میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ مزدوروں کے اعتماد میں اضافہ کر کے مجموعی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔