ذرائع کے مطابق ملاقات میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار اور اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری کو ملکی مفاد میں کی جانے والی حکمت عملی اور سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور اعتماد میں لیا۔
ملاقات میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھی شریک تھے۔ دونوں وزرائے اعلیٰ نے صوبوں میں جاری اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر حفاظتی اقدامات پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے خطے کی سلامتی پر اہم گفتگو
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی منظرنامے پر بھی گفتگو کی گئی، جس میں حکومت کی موجودہ کارکردگی، سیاسی استحکام اور مختلف چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزراء بھی شامل تھے، جنہوں نے مختلف شعبوں کی پیش رفت اور اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
واضع رہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں نہ صرف ملکی سیاسی اور صوبائی قیادت کے درمیان رابطے کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ حساس عالمی اور علاقائی حالات میں پاکستان کی موقف سازی اور حکمت عملی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ملکی اور علاقائی سلامتی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لینا ایک مثبت اور شفاف حکمت عملی ہے۔
سیکورٹی اور سیاسی حلقوں کے مطابق مستقبل میں اس قسم کی ملاقاتیں جاری رہیں گی تاکہ ملکی اور خطے کے معاملات میں یکسوئی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔







