وزیراعظم نے سعودی عرب میں قیام کے دوران اہم سفارتی اور دفاعی سرگرمیوں میں شرکت کی۔ دورے کا مرکزی حصہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط تھے، جسے تینوں ممالک کے باہمی دفاعی اور تزویراتی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

وطن واپسی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ میں حاضری دی۔ انہوں نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کیے اور ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔

وزیراعظم نے روضۂ رسول ﷺ پر بھی حاضری دی اور زیارتِ خاص کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے بھی دعا کی۔

مدینہ منورہ کے ہوائی اڈے سے روانگی کے موقع پر گورنر مدینہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی سعودی عرب کے دورے میں شریک تھے۔

دورۂ سعودی عرب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں بھی کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دورے کے دوران مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

معاہدے میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والی مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جبکہ اجتماعی دفاع اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی اور دفاعی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم اب پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔