عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق پائپ لائن کو ابتدائی طور پر کم رفتار سے چلایا گیا ہے اور سعودی آرامکو بتدریج خام تیل کی ترسیل بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق آرامکو کا ہدف پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل بحال کرنا ہے، تاہم ایک سکیورٹی ذریعے نے مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن، جسے پیٹرولائن بھی کہا جاتا ہے، 13 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد بند کردی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔

یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں پیدا ہونے والے خام تیل کو بحیرۂ احمر تک پہنچانے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر انحصار کم کرتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل کے بعد سعودی عرب تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ینبع منتقل کر رہا تھا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔

پائپ لائن کی بحالی کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ ٹریڈرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں دو ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی اور قیمت 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئی۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق پائپ لائن کے دوبارہ فعال ہونے کے بعد ینبع سے ایک کارگو کی لوڈنگ بھی شیڈول ہے، جسے چین بھیجے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب دو تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی تیل کی ممکنہ لوڈنگ کے پیش نظر ٹریڈرز نے مصر کی بندرگاہ پورٹ سعید اور سیدی کریر کی جانب ٹینکرز منتقل کرنا شروع کردیے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر شپ ٹو شپ منتقلی کے ذریعے خام تیل کی ترسیل جاری رکھی جاسکے۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ پر امریکیوں کی مخالفت میں اضافہ، 78 فیصد نے ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے لیے ناکافی قرار دے دیا

اس سے قبل سعودی عرب نے خلیج میں واقع اپنے برآمدی ٹرمینلز سے خام تیل کی لوڈنگ میں بھی اضافہ کیا۔ 20 ستمبر کو راس تنورہ سے سات انتہائی بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں پر تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل خام تیل لادا گیا، جو حملے کے بعد سعودی برآمدات میں جزوی بحالی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس آبنائے ہرمز سے بچتے ہوئے تیل برآمد کرنے کی محدود متبادل صلاحیت موجود ہے، تاہم بڑے پیمانے پر تیل کی ترسیل کو ان متبادل راستوں پر منتقل کرنے کی عملی گنجائش مکمل طور پر آزمائی نہیں گئی۔