گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے عید کے پرمسرت موقع پر امت مسلمہ میں اتحاد اور بھائی چارے کی دعاؤں کا بھی تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے برادر عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا اور آذربائیجان پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

مزید برآں، گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، خاص طور پر ایران اور خلیج میں جاری تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

آذربائیجان کے صدر نے بھی اس موقع پر پاکستان کے موقف کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی اور ثقافتی روابط کے لحاظ سے بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی قریبی تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

واضع رہے  کہ  یہ ٹیلیفونک گفتگو پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات اور خطے میں تعاون کی عکاس ہے، اور اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ دونوں ممالک مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت سمیت متعدد ممالک میں شوال کا چاند نظر نہ آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عید کی مبارکباد پیش کرنا نہ صرف روایتی سفارتی آداب کی تکمیل ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں برادر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔