میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی، ایران پر حملوں اور دیگر تنازعات نے مسلم دنیا میں تشویش پیدا کی ہے، تاہم مسلم ممالک کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ قابلِ تحسین ہے،سعودی عرب نے اس دوران ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کیا، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں  نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی، فطری اور مستحکم نوعیت کے حامل ہیں۔ پاکستان ہمیشہ حرمین شریفین کے احترام اور تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات خطے میں امن کی ضامن ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے "عمران خان ریلیز فورس" کا منصوبہ ختم کر دیا، پارٹی کی نئی سیاسی حکمت عملی کیا ہو گی؟

انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ سعودی عرب سمیت دیگر اہم ممالک کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں اور سفارتی مذاکرات کو پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قومی سطح پر شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے،خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات میں پارلیمان کی حمایت اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مضبوط تعلقات کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بناتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود ہم آہنگی، خطے میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ میں بھی تکلیف ہے، سہیل آفریدی

اس موقع پرانہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مسلم دنیا میں اتحاد اور تعاون کو فروغ دے، اور مشرق وسطیٰ میں امن و انصاف کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ 

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مستقبل میں خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں میں عوامی نمائندوں اور پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو۔