پاکستانی دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں مساجد اور مسلم مذہبی اداروں کی پروفائلنگ، مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہے اور یہ اقدام مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنے اور انہیں حاشیے پر دھکیلنے کی ایک واضح کوشش ہے۔

بیان کے مطابق زبردستی ذاتی معلومات، تصاویر، اور مذہبی وابستگیوں کا حصول، مذہبی رہنماؤں کو ہراساں کرنا اور عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنا منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کی آزادانہ عبادت میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

پاکستان نے کہا کہ یہ اقدامات ہندوتوا نظریے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں جاری اسلاموفوبیا اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ مساجد اور دیگر مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی حکام فرقہ وارانہ اور امتیازی رویہ اپنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  ایران سے کشیدگی کم کرانے کی روسی کوشش، پیوٹن کا اسرائیل کو پیغام

بیان میں مزید کہا گیا کہ کشمیری عوام کو خوف، دباؤ یا امتیاز کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی جبر اور عدم برداشت کے تمام واقعات کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مذہبی آزادی پر پابندیوں پر فوری توجہ دیں اور بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کریں۔

بیان کے آخر میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی حمایت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور مذہبی حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔