حالیہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتے ہیں، یہ سطح اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب اپنی بیرونی ذمہ داریوں کو زیادہ بہتر انداز میں پورا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

یاد رہے کہ 2022 میں پاکستان کو شدید معاشی بحران کا سامنا تھا، جب بیلنس آف پیمنٹس کے دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 7 ارب ڈالر سے بھی نیچے آ گئے تھے، جس سے ڈیفالٹ کے خدشات بھی سامنے آئے تھے۔

تاہم اس کے بعد حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کیا، جس کے نتیجے میں معاشی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کو فروغ ملا۔ ان اقدامات کے باعث نہ صرف بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی بلکہ زرمبادلہ ذخائر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے تھے، جو جون 2024 میں موجود تقریباً 9.39 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔ 2026 کے دوران بھی یہ مثبت رجحان برقرار رہا اور ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ڈیپازٹ کی بروقت واپسی پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی لیکویڈیٹی پوزیشن اور پالیسی ساکھ کا واضح ثبوت ہے، جب کسی ملک کے پاس مناسب زرمبادلہ ذخائر موجود ہوں اور وہ اپنی ادائیگیوں کو بروقت پورا کر سکے تو یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکیاں جنگی جرائم کے مترادف، ایران ہر قیمت پر خودمختاری کا دفاع کرے گا: ترجمان وزارت خارجہ

ماہرین مزید کہتے ہیں کہ اس اقدام کو کسی مالی دباؤ کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک ذمہ دار معاشی پالیسی اور مستحکم مالی حکمت عملی کی علامت ہے۔

حکومتی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان اپنی تمام مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

دوسری جانب پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات بدستور مضبوط ہیں، اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مالی اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم بناتے ہیں اور اقتصادی شراکت داری کو نئی جہت دیتے ہیں۔