اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک مخلص اور دیانت دار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ ایک مسلسل سفارتی عمل ہے جس میں پاکستان کے ساتھ دیگر دوست اور برادر ممالک بھی امن کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے تنازع کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے ہمیشہ مذاکرات، رابطوں اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، موجودہ صورتحال کے باوجود اسلام آباد نے امید نہیں چھوڑی اور دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید پیش رفت کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔

شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس یادداشت پر ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی دستخط کیے تھے، اس پیش رفت کے بعد پیدا ہونے والے حالات غیر متوقع رخ اختیار کرگئے، تاہم پاکستان اب بھی سفارتی راستے سے مسئلے کے حل کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

پاکستان نے جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے لیے سہولت کاری کی تھی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس عمل کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنا، مذاکرات کو آگے بڑھانا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے قابلِ عمل حل کی تلاش پر مرکوز ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں مزید فوجی کشیدگی کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے اختلافات کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی وزارت خارجہ بھی متعدد مواقع پر واضح کرچکی ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہی روابط اسے دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کاری اور ثالثی میں کردار ادا کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ بات چیت کے امکانات زیرِ بحث رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق عرب ممالک سمیت دیگر فریق بھی کشیدگی کم کرنے اور اعلیٰ سطحی رابطوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن کے حصول کی کوشش ایک مسلسل عمل ہے اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، تمام دوست ممالک خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، اس لیے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

پاکستانی قیادت کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب تنازع کے باعث خطے میں سلامتی، تجارت، توانائی اور سمندری آمدورفت سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں۔ اسلام آباد مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امن کے حصول کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔