قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ گلوبل فنڈ کے تحت ملنے والی امداد کا 25 فیصد حصہ حکومت کو جبکہ 75 فیصد فنڈ غیر سرکاری تنظیموں کو فراہم کیا جا رہا ہے،اس حوالے سے شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کیسز کی تعداد سے متعلق اندازے حتمی اعداد و شمار نہیں، اور آئندہ اسکریننگ کے عمل کے بعد مزید کیسز سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد میں سے 90 فیصد کو طبی وجوہات کی بنیاد پر واپس بھیجا جا رہا ہے، لہٰذا بارڈر ہیلتھ سروسز کے تحت ان افراد کی باقاعدہ اسکریننگ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص علاقے میں غلط سرنجز کے استعمال کے باعث یہ مسئلہ سامنے آیا، جس سے طبی نظام میں احتیاطی تدابیر کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
مزیدپڑھیں: غزہ میں دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ختم ہونی چاہئیں، وزیراعظم شہباز شریف
اجلاس کے دوران ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر وفاقی وزیر صحت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سوالات کا براہِ راست اور متعلقہ جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر متعلقہ گفتگو سے گریز کیا جائے اور اسلام آباد سے متعلق درست اعداد و شمار فراہم کیے جائیں۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یقین دہانی کرائی تھی کہ خالی نشستوں کو پُر کیا جائے گا۔ اس پر رجسٹرار پی ایم ڈی سی نے وضاحت دی کہ داخلوں کی مدت 31 مارچ تک بڑھا دی گئی ہے اور امید ہے کہ تمام سیٹیں پُر ہو جائیں گی۔
وزیر صحت نے نرسنگ کونسل سے متعلق معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس شعبے میں ایک منظم گروہ سرگرم ہے۔ ان کے مطابق عدالت کی جانب سے فریقین کو سنے بغیر حکمِ امتناع جاری کیا گیا، تاہم حکومت قانونی اور انتظامی راستے تلاش کر رہی ہے اور اس معاملے پر ان کیمرا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔







