بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر دوبارہ لانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں صورتحال نہایت حساس ہے اور جنگ بندی کی مدت تیزی سے ختم ہونے کے قریب ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ رواں ہفتے متوقع ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اہم ملاقات جمعرات کو ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست ملاقات کے امکانات زیر غور ہیں اور فریقین کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے تاحال جاری ہیں اور پیشرفت کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک طویل اور اہم مذاکراتی دور منعقد ہوا تھا، جو تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہا۔ تاہم اس طویل نشست کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس کے بعد سفارتی کوششوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا۔

اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب فیصلہ تہران کو کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور: درآمدی ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کی بندش کے باعث غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نئی جنگ سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور روس فریقین کے درمیان تصفیے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش نہ صرف اس کے فعال سفارتی کردار کو ظاہر کرتی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا بھی ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی میں کمی بھی ممکن ہے۔

تاہم موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج محدود وقت کے اندر کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنا ہے، کیونکہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب آتی جا رہی ہے اور کسی بھی ناکامی کی صورت میں صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔