ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ صبح تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر بھڑکی۔ آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 6 فائر بریگیڈ گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔ فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا جب کہ متاثرہ بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آتشزدگی کے باعث مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے اور جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا۔ امدادی کارروائی کے دوران خواتین سمیت 19 افراد کو بھی بحفاظت عمارت سے نکالا گیا۔
پمز اسپتال کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں میں جویریہ کے بچے کے والد کا نام سمیع اللہ، عالیہ کے بچے کے والد کا نام راشد جب کہ انیسہ کے نومولود بچے کے والد کا نام عبداللہ بتایا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی ابتدائی وجہ ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنا معلوم ہوئی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی وجہ انکوائری کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز ہسپتال کے نمائندے شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی نہ صرف آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کرے گی بلکہ ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی اور حفاظتی انتظامات، ریسکیو ٹیموں کے رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا بھی جائزہ لے گی۔
واقعے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی بھی پمز ہسپتال پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے چیف کمشنر کو ریسکیو آپریشن سے متعلق بریفنگ دی۔
دوسری جانب پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر نے کہا ہے کہ آتشزدگی کے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی اور آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کسی کی غفلت یا لاپرواہی کے باعث یہ واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیر صحت نے کہا کہ اگر تحقیقات میں ان کی اپنی کوئی غلطی ثابت ہوئی تو انہیں بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آتشزدگی کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے نے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور نومولود بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات اور کسی ممکنہ غفلت کا تعین انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گا۔








