اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کے دورے کو ’’چھلانگیں‘‘ قرار دینا دراصل پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کی سیاسی گھبراہٹ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر جیسے آئینی عہدے پر براجمان شخص کو شریف خاندان کا ذاتی ملازم بننے کے بجائے غیر جانبدار اسپیکر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر جعلی کیسز کی بات کرنے سے پہلے شریف خاندان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے 9 مئی کا واویلا ن لیگ کے سیاسی انتقام کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ آئین کا احترام صرف تقاریر سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب اسمبلی میں منتخب وزیراعلیٰ اور اراکین کو دھکے دینا کس آئین کے تحت جائز ہے؟
شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت سیکیورٹی کے نام پر اپنا سیاسی خوف چھپا رہی ہے اور یاد دلایا کہ اسمبلی تمام جماعتوں کی ہے، پھر اراکین کو داخلے سے کیوں روکا گیا، پنجاب اسمبلی کو ن لیگ کا ذیلی دفتر بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض سیاسی جماعتوں کی جڑیں ملک میں ہوں یا نہ ہوں، مگر ن لیگ کی جڑیں صرف اقتدار میں ہیں۔ منتخب نمائندوں کی تذلیل سے جمہوریت مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوتی ہے۔
لازمی پڑھیں: انڈیا میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف مظالم باعثِ تشویش ہیں، پاکستان
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والا واقعہ ن لیگ کی سیاسی عدم برداشت کی واضح مثال ہے، جب کہ عظمیٰ بخاری کی جانب سے مسلسل نسلی تعصب پر مبنی بیانات بھی قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت کے جعلی حکمران سیاسی انتقام میں ہوش کھو بیٹھے ہیں۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو خیبر پختونخوا اسمبلی آنے کی دعوت دیتے ہیں، جہاں انہیں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ آخر میں شفیع جان نے خبردار کیا کہ ن لیگ یاد رکھے، یہ صرف آغاز تھا اور یہ اسٹریٹ موومنٹ کی شروعات ہے۔







