سروے کے مطابق صوبہ پنجاب میں 41 فیصد تولیدی عمر کی خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جب کہ 25 فیصد خواتین میں وٹامن اے کی کمی پائی گئی اور 80 فیصد سے زائد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔ 

نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 2018 کے بعد کوئی نیا قومی نیوٹریشن سروے نہیں ہوا، اس لیے خدشہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اب مزید بڑھ چکے ہوں۔

سیمینار کے شرکا نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ آٹا، خوردنی تیل، چاول اور نمک میں مائیکرو نیوٹرینٹس شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے تاکہ عوام کو غذائیت سے بھرپور بنیادی خوراک فراہم کی جا سکے۔

سیمینار سے صوبائی پروگرام منیجر نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان، داؤد مفتی نے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے پاکستان میں جاری پروگرامز کی تفصیلات اور لارج اسکیل فورٹیفیکیشن پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، چیئرمین شعبہ فوڈ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام، ممبر فوڈ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ڈاکٹر محمد ناصر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پنجاب فوڈ اتھارٹی منیر حسین چوپڑا، وزارتِ قانون اور محکمہ خوراک کے نمائندگان، فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی پالیسیاں عوام کے لیے مایوسی کا سبب ہیں، حافظ نعیم الرحمان

تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پھل اور سبزیاں مارکیٹ میں مہنگے داموں دستیاب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھی اور متوازن خوراک مثبت سوچ اور فعال زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کو پائیدار غذائی حکمتِ عملیوں کی تشکیل اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کامیاب اور معلوماتی سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری، سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے فروغ کے لیے آگاہی پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد افراد آئرن کی کمی کا شکار ہیں، جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئرن کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات ناگزیر ہیں، اور ادارہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم نے کہا کہ زرعی سائنس دان تحقیق کے ذریعے غذائیت سے بھرپور اجناس کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر اورک اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے اراکین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے ایک شاندار اور معلوماتی تقریب کے انعقاد میں خدمات انجام دیں۔