قبر کشائی کے دوران میڈیکل بورڈ کے ارکان، پولیس حکام، مجسٹریٹ، پولیس سرجن، شناختی پروجیکٹ کے سربراہ، میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر بھی موقع پر موجود تھے۔

حکام کے مطابق میڈیکل بورڈ نے قبر سے ضروری نمونے حاصل کیے ہیں، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے استعمال کیا جائے گا، میر رضا کی باقیات سے بھی ڈی این اے نمونہ حاصل کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ شناخت اور دیگر اہم پہلوؤں سے متعلق شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے والد اور والدہ کے ڈی این اے سیمپلز بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، والدین کے نمونوں کا میر رضا سے حاصل کیے جانے والے ڈی این اے کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے گا، جس سے فرانزک تحقیقات میں مدد ملنے کی توقع ہے

حکام کا کہنا ہے کہ قبر کشائی کے دوران حاصل ہونے والے مختلف نمونوں کا تفصیلی طبی اور فرانزک تجزیہ کیا جائے گا۔ میڈیکل بورڈ میں شامل ماہرین اپنی سطح پر بھی باقیات کا معائنہ کریں گے تاکہ موت کی وجوہات، شناخت اور دیگر ممکنہ شواہد کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آسکیں۔

قبر کشائی کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ علاقے میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کے دوران موقع پر غیر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت محدود رکھی۔

میر رضا کے کیس میں میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس کے طریقہ کار پر اہلخانہ کی جانب سے پہلے تحفظات سامنے آئے تھے۔ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر 5 رکنی میڈیکل بورڈ کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے سابق میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کیا گیا۔

اب قبر کشائی کے بعد حاصل ہونے والے فرانزک نمونے اور ڈی این اے رپورٹس تحقیقات میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہیں، میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد میر رضا کی موت سے متعلق مزید حقائق واضح ہونے میں مدد ملے گی۔