وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کی تعیناتی 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک مجاز کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعینات رینجرز اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی خطرے یا پرتشدد سرگرمی کی صورت میں قانون اور مقررہ قواعد کے مطابق اپنے دفاع میں مناسب کارروائی کرسکتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے پولیس اور رینجرز کو مسلح یا پرتشدد گروہوں کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں ضروری جوابی اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

پنجاب حکومت نے اسلام آباد کی جانب متوقع مارچ کے پیش نظر راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی خدمات طلب کی تھیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مراسلے کے مطابق رینجرز کی تعیناتی 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی تین کمپنیاں، اٹک میں پانچ ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ان اضلاع میں سیکیورٹی اداروں کی معاونت کا عمل شروع کردیا گیا۔

دوسری جانب اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔ ریڈ زون کے داخلی راستوں پر کنٹینرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ اہم مقامات پر اضافی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جبکہ شہر میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔

راولپنڈی ڈویژن میں بھی بڑے پیمانے پر پولیس نفری تعینات کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اٹک، راولپنڈی، مری، جہلم اور چکوال میں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر آنے والے قافلوں کو کنٹرول کیا جاسکے اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی برقرار رکھی جائے۔

پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کے باعث اسلام آباد آنے والے مختلف راستوں پر بھی سیکیورٹی انتظامات بڑھائے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے اہم پلوں، داخلی راستوں اور شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض راستوں پر آمدورفت محدود یا بند کی گئی ہے۔

اٹک کے مقام پر بھی پشاور کی جانب سے آنے والے راستوں کی نگرانی اور سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اہم گزرگاہوں پر اضافی نفری تعینات کرکے صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کا مقصد اہم سرکاری تنصیبات، ریڈ زون اور حساس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ پرتشدد صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی معاونت فراہم کرنا ہے۔

وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تعینات اہلکاروں کو قانون کے تحت دی گئی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی اور خطرے یا پرتشدد سرگرمی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جاسکے گی۔

حالیہ سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے مارچ کے مقاصد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت دیگر سیاسی مطالبات شامل بتائے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات میں اضافے کے ساتھ سیاسی رابطوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے مذاکرات سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت بھی اپنے سیاسی پروگرام کے حوالے سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی حفاظت اور سرکاری و حساس تنصیبات کو محفوظ رکھنے کے لیے قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کے ساتھ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر نگرانی بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یوں 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سے قبل اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے، جبکہ رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔