سوشل اکاؤنٹ  ایکس پر جاری اپنے  بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی تقریباً دس نشستیں حاصل کرکے ایوان کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اس لیے حکومت بنانے کا پہلا اور آئینی حق بھی اسی جماعت کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے بڑی جماعت بننے کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے نتائج کے حوالے سے تحفظات اور مصدقہ نتائج نہ ملنے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے، جو ان کے نزدیک حیران کن ہے۔

خواجہ سعد رفیق کے مطابق انتخابی عمل میں ایک اہم عنصر یہ بھی رہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بہت سے ووٹرز، جو موجودہ سیاسی نظام کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، اپنی جماعت کو انتخابی میدان میں فعال انداز میں موجود نہ پا کر مسلم لیگ (ن) کی جانب آنے کے بجائے پیپلز پارٹی کی طرف مائل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں اگر پاکستان تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت مکمل انداز میں انتخابات میں حصہ لیتی تو انتخابی عمل مزید مؤثر، متوازن اور قابلِ اعتماد بن سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے وہ پہلے بھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختصر وقت میں پارٹی کی ٹیم نے مؤثر انتخابی مہم چلائی اور امیدواروں نے سخت حالات میں بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول بیشتر حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے توقعات سے بہتر ووٹ حاصل کیے، جس سے گلگت بلتستان میں جماعت کی سیاسی بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران آٹھ روزہ دورے میں انہیں کارکنوں اور مقامی قیادت میں غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا، جو مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک مثبت سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس جذبے کو برقرار رکھنا اور اسے منظم سیاسی قوت میں تبدیل کرنا پارٹی کی مرکزی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے اعتراف کیا کہ وسائل کی کمی، بعض فیصلوں میں تاخیر اور کمزور تنظیمی ڈھانچہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی کارکردگی پر اثرانداز ہوئے، جن پر پارٹی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کا کوئی بچہ اب ٹاٹ پر بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان

انہوں نے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کو حکومت میں شمولیت کے بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے، جماعت کو آئینی اور پارلیمانی عہدوں تک محدود رہتے ہوئے مؤثر اور تعمیری اپوزیشن کا کردار نبھانا چاہیے۔

گلگت بلتستان کی اہمیت پرسابق وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ خطہ جغرافیائی، دفاعی اور معاشی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام مختلف بنیادی مسائل اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے تجویز دی کہ گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے حکومت، اپوزیشن، گلگت بلتستان اسمبلی اور وفاقی حکومت کے درمیان مشاورت سے ایک جامع ’’میثاقِ گلگت بلتستان‘‘ تشکیل دیا جائے، جس کے تحت آئندہ بیس برس کے لیے ترقیاتی اور اقتصادی اہداف مقرر کیے جائیں۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت محض پانچ سال میں گلگت بلتستان کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر خطے کی ترقی کے لیے ایک مشترکہ اور طویل المدتی روڈ میپ پر اتفاق کریں۔