ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ روانگی سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، ٹیکسز اور دیگر مالی عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین پر غور کیا جائے گا۔ موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وزیراعظم اجلاس کے بعد ایک مختصر ویڈیو پیغام بھی جاری کر سکتے ہیں، جس میں حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق پالیسی پر روشنی ڈالے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ممکنہ قیمتوں میں کمی کی خبروں نے پیٹرول پمپس پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ متعدد شہروں میں شہری معمول کے مقابلے میں کم مقدار میں ایندھن خرید رہے ہیں اور صرف فوری ضرورت پوری کرنے تک محدود ہیں۔
پیٹرول پمپ مالکان اور عملے کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران صارفین کی بڑی تعداد قیمتوں میں ممکنہ کمی کے انتظار میں ہے، جس کی وجہ سے فروخت میں وقتی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بعض صارفین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نئی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرتی ہے تو چند روز انتظار کرنے سے انہیں بہتر ریلیف مل سکتا ہے۔
یاد رہے اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا اور حکومت نے اس کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عوام کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کسی حد تک کمی ممکن ہو گی۔
مزید پڑھیں: بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہنگائی کے باعث عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کا ریلیف انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسی لیے حکومتی فیصلے پر ملک بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ اقتصادی ٹیم کی سفارشات اور عالمی مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار کی روشنی میں کیا جائے گا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔







