قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے زور دیا کہ القدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی ہماری پالیسی ہے۔ پاکستان اسرائیل کا نام لینا بھی قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ ملک پاکستان کے سرکاری سفری دستاویزات کے مطابق "نو گو ایریا" ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاستی پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی، ہم آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں اور اس پر کبھی سودے بازی نہیں ہوگی۔
نائب وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں اور یہی مؤقف اسلامی ممالک کے ساتھ اشتراک میں عالمی سطح پر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے فلسطین اور غزہ کے حوالے سے 20 نکاتی منصوبہ سامنے آیا ہے، مگر یہ منصوبہ مکمل طور پر پاکستان یا اسلامی ممالک کا تیار کردہ نہیں، یہ ہمارا ڈرافٹ نہیں تھا بلکہ اس میں ہماری تجاویز شامل کی گئیں، مگر امریکا نے اسے اپنے طور پر پیش کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ناکامی، عرب ممالک اور او آئی سی کی بے بسی کے بعد پاکستان اور دیگر 7 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کی۔ اس ملاقات میں 64 ہزار شہادتوں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمیوں اور روزانہ کی بنیاد پر جاری تباہی کا ذکر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہا کہ غزہ اب انسانوں کا ہی نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا بھی قبرستان بن چکا ہے۔ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکا کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا کہ اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیرِخارجہ نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ سے باضابطہ ملاقات سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی صدر کے درمیان ایک غیر رسمی ملاقات بھی ہوئی۔ یہ بات میڈیا پر اس لیے نہیں لائی گئی کیونکہ خدشہ تھا کہ کچھ عناصر اس عمل کو سبوتاژ کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس غیر رسمی ملاقات کے بعد قطری سفارتخانے میں بھی طویل اجلاس ہوا، جہاں ٹرمپ کی ٹیم نے 20 نکاتی مسودہ پیش کیا۔ اس پر اسلامی ممالک نے اپنے نکات شامل کرکے امریکا کو جواب بھیجا۔
مزید پڑھیں: غزہ معاہدے پر پارلیمنٹ کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا؟ اسد قیصر کا سوال
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے کے دوران انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مشترکہ بیان میں اسرائیل کا نام نہ لیا جائے۔ ہماری پالیسی بالکل واضح ہے، اسرائیل کا ذکر بھی ہمیں قابلِ قبول نہیں۔ اسی لیے مشترکہ بیان میں اس کا نام حذف کروایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ صرف فلسطین بلکہ کشمیر کا مسئلہ بھی بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ یہ وہی فورم تھا جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا، مگر سب سے اہم اسرائیل کی کھلم کھلا مذمت تھی۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ جانے والے فلوٹیلا کی 45 میں سے 22 کشتیوں کو روکا گیا اور ان میں سوار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی ان میں شامل ہیں۔ ہم نے ایک یورپی ملک کو اس معاملے میں شامل کیا ہے تاکہ وہ اسرائیل سے براہِ راست بات کرکے گرفتاری ختم کروائے۔ ہم سوئے نہیں ہیں، ہر لمحہ کوشش جاری ہے۔
اسحاق ڈار نے حالیہ سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دہائیوں پرانے تعلقات کی بنیاد پر ہوا ہے اور اس میں واضح لکھا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ ماضی میں موجود ہوتا تو انڈیا کا حملہ پاکستان پر نہیں بلکہ سعودی عرب پر بھی حملہ تصور کیا جاتا۔ یہ معاہدہ صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی تعاون کی بنیاد ہے۔
نائب وزیرِاعظم نے دعویٰ کیا کہ کئی عرب اور غیر عرب اسلامی ممالک اب پاکستان کے ساتھ اسی طرز کا دفاعی معاہدہ چاہتے ہیں۔ اگر یہ سب مل گئے تو ایک مشرقی نیٹو وجود میں آسکتا ہے۔ اللہ کو کیا منظور ہے یہ نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کرے گا۔







