عدالت میں کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 3 میں ہوئی جس دوران ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی اور تفتیشی افسر پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرایا گیا جس میں متعدد سیاسی شخصیات اور کارکنوں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق چالان میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر چمکنی سمیت دیگر افراد کے نام بھی چالان میں درج کیے گئے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے مقدمے کی تحقیقات کے دوران مختلف اداروں سے مدد حاصل کی، پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ سمیت دیگر افراد کو چالان میں شامل کیا گیا۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ وہ مقدمے کا مکمل ریکارڈ عدالت میں جمع کرا رہے ہیں، تاہم پراسیکیوٹر کی جانب سے ریکارڈ وصول نہیں کیا جا رہا جس کے باعث کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

اس موقع پر ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کا چالان جمع نہ کروانے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے پر ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر اور پبلک پراسیکیوٹر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی کی درخواست پر اعتراضات، اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور کیس کی مزید سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی۔

واضع رہے کہ  ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اہم سیاسی شخصیات کے نام سامنے آنے کے بعد مقدمے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے اور آئندہ سماعتوں میں کیس کی پیش رفت پر خاص توجہ دی جائے گی۔