ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق اس موقع پر چینی حکام کی اعلیٰ سطحی قیادت نے صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات میں سینئر چینی رہنما لی جیانگ اور شاؤشان ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ژانگ شی ہوئی بھی موجود تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں انہیں ماؤ زے تُنگ کی زندگی، ان کی سیاسی جدوجہد اور ان نظریاتی عوامل سے آگاہ کیا گیا جنہوں نے جدید چین کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام نے صدر کو بتایا کہ شاؤشان میں موجود یہ تاریخی مقامات نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی تاریخ سے جوڑنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
صدر مملکت نے بعد ازاں ماؤ زے تُنگ میموریل میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں چین کی انقلابی تاریخ، سیاسی ارتقاء اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام سے متعلق اہم دستاویزات اور نوادرات دکھائے گئے۔ انہوں نے میوزیم میں موجود تاریخی تصاویر اور ریکارڈز کامشاہدہ کیا۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسے تاریخی مقامات کا تحفظ نہ صرف ماضی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی اور استحکام میں اس کی انقلابی تاریخ کا اہم کردار رہا ہے جس سے دیگر ممالک بھی سیکھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں فلاحی پروگرامز: 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید، مزید اقدامات کی منظوری
دورے کا مقصد پاک چین دوستی کو مزید مستحکم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و تاریخی روابط کو فروغ دینا ہے، اس طرح کے دورے دوطرفہ تعلقات میں مزید گرمجوشی پیدا کرتے ہیں اور خطے میں تعاون کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر کا یہ دورہ پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کے تسلسل کا حصہ ہے، جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔







