وزیر تعلیم نے کہا کہ رواں سال 20 لاکھ گھوسٹ انرولمنٹ کا خاتمہ کیا گیا، جب کہ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے اساتذہ کی کمی کے مسئلے پر قابو پایا گیا۔ پہلی مرتبہ کریکلم ریفارمز پر تاریخی کام ہوا اور کوالٹی آف ٹیچنگ میں نمایاں بہتری لائی گئی، جس کے تحت ایک لاکھ اساتذہ کی تربیت کروائی گئی۔
رانا سکندر حیات نے بتایا کہ امتحانی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ سسٹم پر منتقل کیا گیا، جب کہ ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن پر فوکس کرتے ہوئے 10 ہزار سکولوں میں ای سی ای رومز قائم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نیوٹریشن پروگرام کا دائرہ بتدریج بڑھایا گیا اور اس وقت روزانہ 11 لاکھ طلبہ و طالبات اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ روزانہ 11 لاکھ نیوٹریشن بیگز ری سائیکل کیے جا رہے ہیں، جس سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب سکول بینچ تیار ہو رہے ہیں اور فرنیچر کی کمی پوری کی جا رہی ہے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ خواتین اساتذہ کے لیے سمال انسٹالمنٹ پر سکوٹیز اسکیم متعارف کروائی گئی، جب کہ سکولوں میں سہولیات کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ بڑھا کر تاریخ میں پہلی مرتبہ 110 ارب روپے کیا گیا۔ رواں سال 268 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں اساتذہ کی ہراسمنٹ کے 37 کیسز پر فیصلے کیے گئے اور پہلی مرتبہ ٹیچر تکریم ایوارڈز لانچ کیے گئے۔ 10 اضلاع میں سنٹر آف ایکسیلینس اور 300 سکول آف ایمینینس بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جب کہ پہلا سکول آف ایمینینس بھی لانچ ہو چکا ہے۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ اسکیم میں شامل کرتے ہوئے 10 ہزار لیپ ٹاپ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ گوگل کے تعاون سے طلبہ، اساتذہ اور صحافیوں کے لیے خصوصی ورکشاپس اور کورسز کا انعقاد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 850 میں سے 550 کالجز میں مستقل پرنسپلز موجود نہیں تھے، تاہم رواں سال 450 کالجز میں میرٹ پر پرنسپلز تعینات کیے جا چکے ہیں، جب کہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، چین کے تمام بنیادی مفادات پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سٹیم کلبز قائم ہو چکے ہیں اور 50 فیصد سکولوں میں سٹیم لیبز کی تعمیر کا آغاز ہو گیا ہے۔ میٹرک ان ٹیکنالوجی کے تحت گریڈ 9 میں 51 ہزار طلبہ ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سکولوں میں گوگل کلاؤڈ آئی ڈیز فراہم کی جا چکی ہیں، جب کہ کروم بکس بھی جلد دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، 50 فیصد سکولز اور کالجز کو سولرائز کیا جا رہا ہے اور ٹیچر سرٹیفیکیشن بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ سکول آؤٹ سورسنگ کے بعد انرولمنٹ میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ سرکاری سکولوں پر عوام کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک مثال قائم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے، ہمارا کام خود بولتا ہے، ہم صرف دعوے نہیں کرتے بلکہ کر کے دکھاتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا۔







