شہر کے اندر بیشتر مقامات پر آمد و رفت جاری ہے، تاہم اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے بعد ٹریفک کا دباؤ بڑھنے اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

تازہ انتظامات کے تحت موٹروے ایم ون کے اسلام آباد ٹول پلازا کے مقام پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں، جس کے باعث موٹروے کا متعلقہ حصہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ موٹروے پر آنے والی ٹریفک کو جی ٹی روڈ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ ایم ون کے مختلف ریسٹ ایریاز بھی بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد کے 26 نمبر چنگی کے مقام پر بھی مٹی سے بھرے کنٹینرز رکھ کر شاہراہ کو بند کردیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسلا سے وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے راستے پر بھی کنٹینرز کھڑے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث راولپنڈی، ٹیکسلا اور گردونواح سے اسلام آباد آنے والے مسافروں کو متبادل راستوں کا سامنا ہے۔

حکام کی جانب سے اسلام آباد کے ریڈ زون کے داخلی راستوں پر بھی کنٹینرز کی متعدد تہیں قائم کردی گئی ہیں۔ مختلف مقامات پر چیک پوسٹس بنائی گئی ہیں اور حساس داخلی راستوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی بڑھا دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات کے لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز مختلف اہم مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی بھی بڑھائی جارہی ہے۔ بعض اہم شاہراہوں اور ریڈ زون کی جانب جانے والے راستوں کو مرحلہ وار بند کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

حکام نے اسلام آباد آنے والی بعض بڑی شاہراہوں کے حوالے سے بھی ٹریفک پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ تازہ ٹریفک پلان کے مطابق ایم ون سمیت بعض اہم راستوں کو بند کرنے اور ٹریفک کو متبادل شاہراہوں کی جانب منتقل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، جس کا مقصد لانگ مارچ کے دوران دارالحکومت میں داخلے اور حساس مقامات تک رسائی کو محدود رکھنا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پولیس اور انتظامیہ نے سیکیورٹی پلان کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی نفری اور اینٹی رائٹ آلات بھی طلب کیے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پنجاب اور سندھ سے اضافی پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔

ادھر پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے لیے بھی خصوصی ڈیوٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی آفس کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق لانگ مارچ کے دوران سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے والے پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ خصوصی ڈیوٹی الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے احتجاج کو سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے جوڑا گیا ہے، جبکہ حکومت اور انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں احتجاج اور اجتماعات کے حوالے سے دفعہ 144 بھی نافذ ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ کے مطابق یہ حکم دو ماہ کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

حالیہ اقدامات کے نتیجے میں دارالحکومت کے داخلی راستوں، موٹرویز اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے مسائل میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں کو سفر کے دوران متبادل راستوں اور تازہ ٹریفک ہدایات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کے مطابق مزید راستوں پر بھی عارضی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان برقرار ہے۔