تحریک لبیک کا لانگ مارچ حافظ سعد رضوی کی قیادت میں راوی روڈ لکڑی منڈی پہنچ چکا ہے، جب کہ قافلہ آج رات شاہدرہ پل پر رکے گا اور پھر کل صبح یہاں سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا۔

تحریک لبیک کی قیادت نے آج لاہور میں مینارِ پاکستان کے قریب آزادی چوک پر رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب، پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے شیلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جب کہ لانگ مارچ کے باعث موبائل ڈیٹا اور سڑکیں کئی شہروں میں بند ہیں، اور اسلام آباد و راولپنڈی میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کی کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان نے آج بروز جمعہ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے، لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور سیاسی کارکن دونوں شامل ہیں۔ ٹی ایل پی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب امریکی سفارت خانے اسلام آباد تک مارچ کریں گے۔

 تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ کا آغاز جامعہ مسجد رحمت العالمین لاہور سے کردیا گیا ہے، ٹی ایل پی ترجمان کے مطابق مارچ کی قیادت سربراہ تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی کر رہے ہیں، مارچ کا آغاز ہوتے ہی پورا لاہور قافلوں کی صورت میں مارچ کے اندر شریک ہو گیا ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، نہتے اور پرامن کارکنان پر شدید شیلنگ اور سٹریٹ فائر کیے جا رہے ہیں فائر کیے جارہے ہیں،  لاہور میں جگہ جگہ مٹی سے بھرے کنٹینرز لگا کر پورے لاہور کو بند کر دیا گیا ہے، حکومت ہمارے پرامن مارچ کو پرتشدد بنانا چاہ رہی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی اس غنڈہ گردی کو فورا بند کرے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعے کو کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے احتجاج کے لیے کوئی درخواست نہیں دی اور مذہب کے نام پر اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ٹی ایل پی نے احتجاج کے لیے کہاں اجازت مانگی؟ اجازت کی شرائط پوری کرنے کے لیے کون سی یقین دہانی کروائی گئی؟‘

طلال چوہدری نے لاہور میں ٹی ایل پی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی نے پولیس پر شیشے کی گولیاں، نمک اور نقصان پہنچانے والے کیمیکل استعمال کیے۔ ’ڈنڈے اور دوسرے چیزیں تقسیم کرنے کے لیے پورا نیٹ ورک ہے جو پکڑا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے لوگوں کو بیان بازی نہیں امن چاہیے۔ انہیں اپنا وطن اور زمین چاہیے۔ ’نام نہاد احتجاج، بیانات اور اس پر مذہبی یا سیاسی رنگ بازی کی ضرورت نہیں۔‘

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ’جب 20 نکاتی امن معاہدہ فلسطین نے، جس کا یہ مقدمہ ہے، جس کا یہ سب پہلا حق ہے، اس نے حماس سمیت تسلیم کر لیا ہے تو اب احتجاج کرنے والوں کو امن قبول نہیں۔ امن معاہدہ پوری مسلم امہ کی کامیابی ہے۔‘

ملک بھر میں سیکیورٹی سخت، پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے جمعے کو ٹی ایل پی کے لاہور تا اسلام آباد مارچ کے پیش نظر شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی ہے اور شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز رکھ کر راستے فل الحال جزوی بند کر دیے گئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

مزید پڑھیں: ہمیں تمام سیاسی جماعتیں پیاری ہیں۔ کوئی خود کو ریاست سے اوپر سمجھتا ہے تو قبول نہیں، فوجی ترجمان 

جمعے کو اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر کنٹینرز رکھے نظر آئے۔ پولیس کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان فیض آباد کے مقام پر امن و امان کی صورت حال کے باعث ٹریفک کا متبادل پلان بھی جاری کیا گیا جبکہ شہر میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین کی جانب سے حملوں کے بعد حالات کشیدہ ہوئے، پولیس ذرائع 

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او کے ساتھ طے ہوا تھا کہ دونوں طرف سے تشدد نہیں کیا جائے گا مگر راستے سے گزرتے پولیس اہلکاروں پر ٹی ایل پی کارکنوں نے حملہ کیا، پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد حالات خراب ہوئے۔

دوسری جانب لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین بھی دو روز کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر کے بند راستوں کی اطلاع دیتے ہوئے متبادل ٹریفک پلان دیا گیا ہے۔

 

 

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے بھی ضلعے بھر میں 8 سے 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

کمشنر آفس سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بعض گروہ اور عناصر امن و امان میں خلل ڈالنے کے ارادے سے احتجاج یا دیگر سرگرمیوں کی تیاری کر رہے تھے۔

ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کے تحت راولپنڈی میں تمام احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں، جلسوں، لاؤڈ سپیکر کے استعمال، ڈبل سواری اور ہتھیاروں یا خطرناک اشیا لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے زیر گردش ایک پیغام کے مطابق حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ   ہم دونوں بھائی فرنٹ پہ ہوں گے، اب ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام اباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے  میں چلوں گا پھر میری شوریٰ چلے گی پھر میرے کارکن چلیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ گرفتاری مسئلہ کوئی نہیں ، گولی کوئی مسئلہ نہیں ، شیل کوئی مسئلہ نہیں ہے ، شہا د ت ہمارا مقدر ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کیجانب سے لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ کا آغاز جامعہ مسجد رحمت العالمین لاہور سے کردیا گیا ہے، ٹی ایل پی ترجمان کے مطابق مارچ کی قیادت سربراہ تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی کر رہے ہیں، مارچ کا آغاز ہوتے ہی پورا لاہور قافلوں کی صورت میں مارچ کے اندر شریک ہو گیا ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، نہتے اور پرامن کارکنان پر شدید شیلنگ اور سٹریٹ فائر کیے جا رہے ہیں فائر کیے جارہے ہیں، لاہور میں جگہ جگہ مٹی سے بھرے کنٹینرز لگا کر پورے لاہور کو بند کر دیا گیا ہے، حکومت ہمارے پرامن مارچ کو پرتشدد بنانا چاہ رہی ہے۔