سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان کے مطابق 31 جنوری 2026 کو ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں 48 پاکستانی شہری جان سے گئے، جن میں 31 عام شہری شامل تھے۔ شہداء میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے اہلِ خانہ، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور شکلوں میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔
سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا کہ ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث عناصر، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حکومتِ پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: قابض خاندان کی چوتھی نسل اقتدار کے لیے تیار، حکومت کی گورننس صرف اداکاری ہے، حافظ نعیم الرحمان
پریس بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کا ہر عمل مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، چاہے اس کا محرک کچھ بھی ہو اور اسے جہاں بھی، جب بھی اور جس کی جانب سے بھی انجام دیا جائے۔
سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی مہاجرین کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدامات کریں۔
سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے عالمی امن و سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔







