میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بعض معاملات پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے، صوبوں میں بیٹھے لوگ اگر وفاق سے بات نہ کریں تو نظام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں، اسمبلی کو احتجاج کا مرکز بنا دینا عوام کے وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بات چیت کے دروازے کھول کر بہترین اقدام کیا ہے، کیونکہ جنگوں یا قتل و غارت کے بعد بھی بالآخر مسائل بات چیت سے ہی حل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر انڈین دہشتگردی کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے ہیں، دنیا نے پاکستان کی سفارتی اور انٹیلی جنس برتری کو تسلیم کیا ہے۔ انڈیا بلوچستان میں پیسہ دے کر لوگوں کو خریدتا ہے اور پاکستان کے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے الزام لگایا کہ انڈیانے پہلگام واقعے کا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا، مگر پانچ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ 150 دنوں بعد اگر ثبوت نہ دیا جائے تو الزام کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے خطے میں جنگی فضا قائم کر رکھی ہے، لیکن پاکستان امن چاہتا ہے۔ اگر کوئی خطے میں اپنی بدمعاشی ثابت کرنے کی کوشش کرے گا تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ ہمیں مل کر خطے کو پُرامن بنانا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ افغانستان میں جاری مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پراکسی وار کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوتے، انڈیا کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
مزید پڑھیں: ایس ایس پی عدیل اکبر کیس میں نیا موڑ، انکوائری کمیٹی کو خودکشی کے شواہد نہیں ملے
ٹی ایل پی سے متعلق سوال پر ملک احمد خان نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ بالکل درست ہے، کسی دہشتگرد تنظیم سے بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ ریاستی رٹ کے ذریعے اسے روکا جانا چاہیے۔ بات تو ان سے ہوتی ہے جو بات چیت کو سمجھتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن اور اقتصادی ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس کے لیے سب کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔







