سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ خطاب میں واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں حکومت کے لیے سنجیدہ چیلنج ہیں۔ حکومت یہ امکان بھی دیکھ رہی ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کے بل میں مزید اضافہ ہوا تو وفاقی ترقیاتی بجٹ کے کچھ حصے کو استعمال کر کے اس اضافے کا اثر کم کیا جائے، تاکہ صارفین پر براہِ راست دباؤ نہ پڑے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ٹیکسوں اور لیویوں میں لچک حاصل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ان  کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز خاص طور پر اس بات سے پریشان ہیں کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ضروری اشیائے خورونوش اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات پر اثر ڈال سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔ پچھلے چند ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لٹر 55 روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے اثرات عوام محسوس کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران میں ایک روحانی پیشوا شہید ہوا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں: محمود خان اچکزئی

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں تسلیم کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک نہایت مشکل فیصلہ تھا، جس کے باوجود حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام پر پڑنے والا بوجھ کم سے کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی تیل منڈی اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اگر ضروری ہو تو فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

 حکومت کے زیر غور اقدامات میں شامل ہیں:

وفاقی ترقیاتی بجٹ سے اضافی اخراجات کا احاطہ: اگر عالمی قیمتیں بڑھیں تو کچھ حصہ حکومت برداشت کرے گی۔

ٹیکس اور لیویوں میں لچک: آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ٹیکسوں میں عارضی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی حد بندی: عوام پر زیادہ دباؤ نہ پڑنے دینے کے لیے محدود اضافہ۔

متبادل مالی اور پالیسی آپشنز: معاشی استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر ایندھن کی سپلائی جاری رکھنے کی کوشش۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر نہ صرف ٹرانسپورٹیشن اور ضروری اشیاء پر پڑتا ہے بلکہ براہِ راست معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی محسوس ہوتا ہے، جس کے باعث حکومت کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات نہایت اہم ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی سیاست میں ٹرمپ کو کبھی نجات دہندہ اور کبھی ناکامی کی علامت بنایا گیا: ایمل ولی خان

حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ان کی فلاح اور روزمرہ زندگی پر اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، اور ملکی معیشت کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔

یہ اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کے بڑھنے کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت فعال حکمت عملی اپنانے پر غور کر رہی ہے، تاکہ عوام پر مہنگائی کا دباؤ کم کیا جا سکے اور معیشت مستحکم رہ سکے۔