سلامتی کونسل کے یوکرین کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری جنگ نے نہ صرف یوکرین میں انسانی اور معاشی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تنازع کے باعث عالمی خوراک اور توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، جن کا اثر جنگ سے باہر موجود ممالک، بالخصوص ترقی پذیر ریاستوں پر بھی پڑتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے جنگ میں مسلسل شدت اور جدید ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا، فریقین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید وسیع کریں یا اس کے اثرات کو خطے سے باہر تک پہنچانے کا باعث بنیں۔
عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا، شہریوں، بنیادی شہری ڈھانچے اور انسانی امداد سے وابستہ افراد کا تحفظ تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے اور جنگ کے دوران بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ فریقین کو فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کرنا چاہیے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوسکے، جنگ بندی کے بعد سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال کرکے ایک ایسے سیاسی تصفیے کی طرف بڑھا جاسکتا ہے جو تمام متعلقہ فریقوں کے جائز سلامتی خدشات کو مدنظر رکھے۔
عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ کے فوجی حل کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازع کے پائیدار حل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لائیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے طویل ہونے سے انسانی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ مسلسل فوجی کارروائیاں فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی راہ کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اور بامعنی سفارتی رابطے ناگزیر ہیں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ یوکرین تنازع کے اثرات صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں۔ توانائی اور خوراک سے متعلق اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات عالمی سطح پر سپلائی اور تحفظ کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور تجارتی اثرات ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسی لیے تنازع کے خاتمے کی کوششوں کو صرف فوجی صورتحال تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے وسیع تر عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے
پاکستان نے ماضی میں امریکا کی جانب سے شروع کیے گئے سفارتی اقدامات کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق تنازع کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی راستوں کو فعال رکھنا اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی بھی حمایت کی تھی، جس میں یوکرین تنازع کے پرامن حل اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر زور دیا گیا تھا، اس نوعیت کی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ قبول تصفیے تک پہنچ سکیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور قابلِ عمل سیاسی حل کی ضرورت ہوگی، ایسا حل اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فریقین کے جائز سلامتی خدشات کو نظرانداز کیے بغیر مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول راستہ تلاش کیا جائے، اعتماد سازی کے اقدامات اور مسلسل سفارتی رابطے پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر روس اور یوکرین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔ اسلام آباد کے مطابق فوری جنگ بندی سے انسانی نقصان کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے لیے ضروری گنجائش بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے ہونے والی تمام سنجیدہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، مقصد ایسا جامع، پائیدار اور پرامن حل ہونا چاہیے جو خطے میں امن و استحکام کی بحالی میں مدد دے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر واضح کیا کہ جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے فریقین کو فوری طور پر ہتھیار خاموش کرکے مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بامعنی سفارت کاری ہی تنازع کے سیاسی حل کے لیے ماحول پیدا کرسکتی ہے۔







