ان کے منصوبوں میں ایسے مقابلے شامل ہیں جن میں ڈرونز کی بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت کو پرکھا جاتا ہے، اور طلبہ کو ڈیزائن، فلائٹ کنٹرول سسٹم، استحکام اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کا چیلنج دیا جاتا ہے۔
یہ سرگرمیاں مکینیکل انجینئرنگ، الیکٹرانکس، پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت کو یکجا کرتی ہیں اور طلبہ کو پروٹوٹائپ کی تیاری سے لے کر میدانی ٹیسٹنگ تک عملی تجربہ فراہم کرتی ہیں۔
ایسے پروگراموں کے ذریعے چینی جامعات انجینئرز کی ایک نئی نسل تیار کر رہی ہیں جو ٹیکنالوجی کو صرف سمجھتی ہی نہیں، بلکہ اسے تخلیق کرنا اور اس کے استعمال کا دائرہ وسیع کرنا بھی سیکھتی ہے، چاہے وہ ڈرونز ہوں یا مستقبل کی ٹرانسپورٹ، خدمات اور صنعتی حل ہو۔
یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے ڈرون میں جدت لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وزن اٹھانے کے قابل بنادیا۔







