منصوبے کے ذریعے زرعی فضلے، خصوصاً کپاس کی چھڑیوں اور گنے کے پھوگ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحول دوست توانائی اور قیمتی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت زرعی باقیات سے بائیو کوئلہ، بجلی، صنعتی ایندھن، اضافی حرارت اور Wood Vinegar جیسی مفید مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ اس عمل سے حاصل ہونے والی اضافی حرارت قریبی کھدر ٹیکسٹائل ڈائنگ یونٹس کو فراہم کرنے کا منصوبہ بھی ہے، جبکہ تیار ہونے والا بائیو کوئلہ صنعتی بھٹوں، بوائلرز اور دیگر صنعتی صارفین کے لیے روایتی کوئلے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
یونیورسٹی آف کمالیہ میں منصوبے کا مرکزی BioHub قائم کیا جائے گا، جو سالانہ تقریباً 5 ہزار ٹن زرعی بائیوماس پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس سے اندازاً 3 ہزار سے 4 ہزار ٹن بائیو کوئلہ تیار ہوگا، جبکہ پراسیس سے حاصل ہونے والی گیس کے ذریعے تقریباً 20 سے 40 کلوواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کا مربوط نظام اپنے ہی پیدا کردہ وسائل سے چلانے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے بیرونی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔
PLUS SAFER منصوبہ صرف توانائی کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ اس میں دیہی خواتین کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت خواتین کی زیرِ قیادت Biomass Cooperative قائم کی جائے گی، جو دیہی علاقوں سے زرعی فضلے کے حصول، دستیابی، ترسیل اور معیار کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے گی۔ اس اقدام سے مقامی کاشتکار خاندانوں کی آمدن بڑھانے اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں باوقار شمولیت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
منصوبے کا ایک اہم مقصد فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحان میں کمی لانا، اس سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کو کم کرنا، درآمدی کوئلے پر انحصار گھٹانا اور مقامی صنعت کو متبادل توانائی فراہم کرنا ہے۔ منصوبہ 24 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور اس کا مجموعی بجٹ 1.245 ملین پاؤنڈ، یعنی تقریباً 46 کروڑ پاکستانی روپے ہے۔
بین الاقوامی منصوبے میں برطانیہ کی Eco Research Ltd بطور Project Lead، Northumbria University UK، پاکستان کی Prime Eurotech Pvt. Ltd. اور یونیورسٹی آف کمالیہ شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف کمالیہ پاکستان میں منصوبے کی Lead Institution اور مرکزی Demonstration Host ہے، جبکہ BioHub بھی یونیورسٹی میں قائم کیا جائے گا۔
وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے منصوبے کو یونیورسٹی کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ PLUS SAFER جدید تحقیق اور عالمی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے مقامی وسائل کو توانائی، صنعت اور معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کی عملی مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمالیہ میں تیار ہونے والا یہ ماڈل کامیاب ہونے کی صورت میں جنوبی پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر زرعی علاقوں میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب اور ڈاکٹر سرمد مسعود شاہین جبکہ بین الاقوامی شراکت دار اداروں کی جانب سے ڈاکٹر محمد صغیر، ڈاکٹر جبران خلیق اور ڈاکٹر شاہد رسول منصوبے میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ منصوبے کی کامیابی سے زرعی فضلے کو مسئلے کے بجائے توانائی، روزگار اور معاشی ترقی کے نئے وسیلے میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔







