جے ایل آر نے جیگوار کو دوبارہ ایک لگژری برانڈ کے طور پر متعارف کرانے کے لیے اربوں پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تاہم رواں ہفتے متعارف کرائی جانے والی نئی ٹائپ 01 کے ڈیزائن کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔
کمپنی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ تقریباً 4,000 ملازمتیں ختم کرے گی۔ یہ فیصلہ مالی اور انتظامی دباؤ کے باعث کیا گیا۔ اس سے قبل گزشتہ سال ایک سائبر حملے کے بعد کمپنی کی گاڑیوں کی پیداوار ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک متاثر رہی تھی۔
برمنگھم یونیورسٹی میں بزنس اکنامکس کے پروفیسر ڈیوڈ بیلی نے جے ایل آر کی موجودہ صورتحال کو ’پرفیکٹ اسٹورم‘ یعنی کئی بڑے مسائل کے ایک ساتھ پیدا ہونے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق نئی گاڑی جیگوار کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ہے اور موقع بھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ جیگوار برانڈ کے لیے ’کرو یا مرو‘ کا مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کو پریمیم گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اب وہ جیگوار کو ایک لگژری الیکٹرک برانڈ کے طور پر دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈیوڈ بیلی کے مطابق لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ جیگوار ایک ایسی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو ابھی پوری طرح ترقی نہیں کر سکی۔
نئی ٹائپ 01 کی برطانیہ میں ابتدائی قیمت 130,000 پاؤنڈ جبکہ امریکا میں 130,500 ڈالر رکھی گئی ہے۔
گاڑی کے الیکٹرک موٹرز تقریباً 1,000 ہارس پاور پیدا کرتے ہیں اور یہ صرف 3.2 سیکنڈ میں صفر سے 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
جے ایل آر کے مطابق ٹائپ 01 ہائی وے پر مسلسل رفتار سے چلتے ہوئے ایک چارج پر 320 میل تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔
یہ گاڑی برطانیہ کے ویسٹ مڈلینڈز میں ڈیزائن اور تیار کی گئی ہے، تاہم اس کی رونمائی نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں کی گئی۔
ٹائپ 01 کی پیداوار جے ایل آر کے سولہل میں واقع لوڈ لین پلانٹ میں ہوگی، جبکہ گاڑی کے بیٹری پیک وولورہیمپٹن میں کمپنی کی فیکٹری میں تیار کیے جائیں گے۔
جے ایل آر دنیا بھر میں تقریباً 43,000 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے 4,000 ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے نے برطانیہ کی گاڑیوں کی صنعت میں روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
روور گروپ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر کیون مورلی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر نئی جیگوار کمپنی کی توقعات کے مطابق فروخت حاصل نہ کر سکی تو مزید ملازمتیں ختم کی جا سکتی ہیں۔
جیگوار کو مکمل طور پر الیکٹرک برانڈ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو ایک انتہائی خطرناک حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
جے ایل آر جیگوار کے الگ مالی نتائج جاری نہیں کرتی، تاہم اس برانڈ کو عام طور پر جے ایل آر گروپ کی کمزور ترین کارکردگی دکھانے والی برانڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز کے میئر رچرڈ پارکر نے بھی کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی شاید صارفین کی رفتار سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔
انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مقرر کیے گئے اہداف میں کمی کی جائے تاکہ ملک کی گاڑیوں کی صنعت کو تحفظ دیا جا سکے۔
ٹائپ 01 کے ڈیزائن پر صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا ہے، تاہم ویسٹ مڈلینڈز کے جیگوار اینتھوزیاسٹس کلب کے ارکان نے نئی گاڑی کا خیر مقدم کیا ہے۔
کنگز وِنفورڈ سے تعلق رکھنے والے ٹِم بروکس نے کہا کہ نئی گاڑی میں جیگوار کی روایتی کم اونچائی، لمبی اور چوڑی ساخت برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اس کے ڈیزائن میں جدت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔
ایان مارٹن نے اسے ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا اور کہا کہ یہ جیگوار کو ایک نئی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
والسال سے تعلق رکھنے والے پیٹر بینیٹ نے گاڑی میں موجود ٹیکنالوجی کو سراہا، تاہم خبردار کیا کہ چینی کمپنیاں اسی طرح کی خصوصیات والی گاڑیاں کہیں کم قیمت پر پیش کر رہی ہیں۔
سٹی آف وولورہیمپٹن کالج میں زیر تربیت مکینکس نے بھی نئی گاڑی کے بارے میں مثبت رائے دی۔
طالب علم محمد علی عدنان نے کہا کہ ٹائپ 01 گزشتہ جیگوار ماڈلز کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور اس میں کامیاب ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔







