ان لوگوں نے اپنی لا علمی، حماقت اور ذہنی پستی کا ثبوت دیا اور اس بھگدڑ کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بے عقل ہجوم اور بھیڑ بکریاں بالکل اسی قابل ہیں کہ ان پر ایسے ہی حکمران مسلط کیے جائیں جو ان کی حالتِ زار کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس ہجوم میں سے کئی لوگ اپنے گھروں سے کسی حادثے کا شکار ہونے نہیں بلکہ ایک محفل میں خوشی کے چند لمحات اور تفریح تلاش کرنے نکلے تھے۔
ان میں دو ایسے ہی نوجوان تھے جن کی آنکھوں میں مستقبل کے بے شمار خواب تھے اور دل میں کچھ دیر کے لیے دنیا کےجھنجھٹوں سے دور مسکرانے کی خواہش، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جس اسٹیڈیم میں وہ ایک سوشل میڈیا اسٹار کی شادی کا تماشا دیکھنے جا رہا ہے، وہاں انتظامی غفلت، بدانتظامی اور سستی شہرت کے ہوس زادوں کے ہاتھوں اس کی زندگی کا چراغ ہی گل ہو جائے گا۔
سیالکوٹ کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں ٹک ٹاکر 'مسٹر پتلو' کی شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچنے اور ہجوم بے قابو ہونے کے نتیجے میں دو نوجوانوں کی ہلاکت اور کئی افراد کے شدید زخمی ہونے کی خبر نے پورے شہر کو صفِ ماتم میں تبدیل کر دیا ہے۔
لیکن یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں تقریبات کے نام پر ہونے والی بے حسی، نمود و نمائش اور انتظامی نااہلی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے!
سوشل میڈیا کی دنیا کے نام نہاد ستارے مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب کا غلغلہ سیالکوٹ اسپورٹس اسٹیڈیم میں برپا تھا، ہزاروں لوگوں کو تفریح کے دلکش دعوے دکھا کر ایک جگہ جمع کیا گیا۔ لیکن کیا منتظمین اور خود اس ٹک ٹاکر کو اس بات کا ذرا برابر بھی اندازہ نہیں تھا کہ جب ہزاروں کا ہجوم ایک جگہ اکٹھا ہوگا تو ان کی حفاظتی تدابیر کیا ہوں گی؟
لوگوں کو بلانا، بڑے بڑے دعوے کرنا اور شہرت کے نام پر ہجوم اکٹھا کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن جب وہی ہجوم بے قابو ہو جائے اور انسانی جانیں خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
کیا آمد و رفت، داخلی و خارجی راستوں، سیکیورٹی اور ہنگامی طبی سہولیات کا کوئی مناسب پلان موجود تھا؟ اگر سب کچھ مکمل تھا تو پھر یہ قیامت کیسے ٹوٹی؟ اور اگر انتظامات نہیں تھے تو اتنے بڑے اجتماع کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟
اس پورے واقعے کا سب سے دردناک پہلو اس ٹک ٹاکر کا پیسے کا زعم اور فرعونیت ہے جو خود کو اسٹار ثابت کرنے کی دھن میں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگا ہے۔ ویوز، فالوورز، لائکس اور وائرل ویڈیو کی اس اندھی دوڑ میں انسانی جانوں کی اہمیت کو سرے سے بھلا ہی دیا گیا ہے۔
کوئی اپنی شادی کو یادگار بنانے کے چکر میں سیکیورٹی کے اصولوں کو ہوا میں اڑا دیتا ہے تو کوئی اپنے نام کی تشہیر کے لیے عوام کو ایک ہجوم اور سستا ہدف سمجھتا ہے۔ پیسے کے اس زعم نے ان نام نہاد انفلوئنسرز کو اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ انہیں اپنی نمائش کے آگے کسی کے لختِ جگر کی زندگی کی کوئی قیمت نظر نہیں آتی۔
لیکن اس سانحے کی دوسری اور سب سے بڑی تلخ حقیقت وہ تماش بین ہجوم ہے جو اس بے مقصد تماشے کا حصہ بننے کے لیے کھنچا چلا آیا۔
ذرا غور کیجیے! آج کی دنیا کہاں کھڑی ہے؟ دنیا چاند اور مریخ پر کمندیں ڈال رہی ہے، سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور نت نئے ایجادات میں دنیا بھر کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور اپنی قوموں کا نام روشن کر رہے ہیں۔
لیکن دوسری طرف ہمارا نوجوان طبقہ کس ٹک ٹاک خمار اور غفلت میں مبتلا ہے؟ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک ٹک ٹاکر کی شادی دیکھنے اور اس کے ساتھ ایک سیلفی کے حصول کے لیے اپنے قیمتی وقت اور زندگی کو داؤ پر لگا دینا ہماری اجتماعی ذہنی زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لوگ اپنے گھروں سے خوشی میں شریک ہونے نکلتے ہیں، اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ تقریبات کا رخ کرتے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ جہاں وہ جا رہے ہیں وہاں انتظامات کا فقدان اور منتظمین کی غفلت ان کے لیے موت کا جال بن چکی ہے؟
اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، سب سے بڑھ کر یہ طے ہونا چاہیے کہ اس تقریب کی اجازت دینے والے اور انتظامات کے ذمہ داران کون تھے ؟
یہ معاملہ کسی ایک شخص کی شادی یا ذاتی خوشی کا نہیں بلکہ عوامی تحفظ اور انسانی جانوں کے احترام کا ہے۔
شادی کی خوشیاں منانے پر کسی کو اعتراض نہیں، لیکن اپنی نمائش اور ہوسِ شہرت کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا حق کسی کو نہیں۔ شادی کے چراغ دوبارہ جل سکتے ہیں، تقریبات پھر سے سج سکتی ہیں، لیکن جس گھر سے جوان کا جنازہ اٹھتا ہے وہاں خوشیاں واپس آنے میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے، کیا اسٹیڈیم میں ہزاروں کا ہجوم اکٹھا کرنے والے اور پیسے کے زعم میں مبتلا ٹک ٹاکر اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں گے؟








